لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ویسے تو اب متعدد بہترین وائرلیس ائیر بڈز دستیاب ہیں مگر بیشتر افراد ائیر پوڈ کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔گزشتہ برسوں میں ائیر پوڈز کے ڈیزائن اور کارکردگی میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔مگر ایپل کی ان ڈیوائسز میں ایک چیز ہمیشہ موجود ہوتی ہے اور وہ ہے بیضوی شکل کے سیاہ نقطے جو ہر ائیر پوڈ میں موجود ہوتیہیں۔(مگر ان کو ائیر پوڈ کا حصہ بنانے کی وجہ کیا ہے؟)ویسے تو ائیر پوڈز کے مختلف ماڈلز ہیں اور یہ سیاہ نقطے یا سنسرز مختلف ٹیکنالوجیز سے لیس ہوسکتے ہیں مگر ان کے ڈیزائن کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے آٹو میٹک ائیر ڈیٹیکشن۔یعنی اس سے ائیر پوڈ کو علم ہوتا ہے کہ آپ نے اسے کانوں میں لگایا ہوا ہے یا نہیں۔یہی وجہ ہے جب آپ ایک یا دونوں ائیر پوڈز کو کانوں سے نکال دیتے ہیں تو گانا خودکار طور پر رک جاتا ہے۔آسان الفاظ میں جب اس سیاہ نقطے میں موجود سنسر کو علم ہوتا ہے کہ آپ نے ڈیوائس کو کانوں سے نکال دیا ہے تو وہ کسی بھی گانے یا ویڈیو کو فوری طور پر روک دیتا ہے۔اگر آپ ائیر پوڈز کو دوبارہ کانوں میں لگالیں تو پھر یہ سنسر میڈیا کو دوبارہ پلے کر دیتا ہے۔ائیر پوڈز میں آٹومیٹک ائیر ڈیٹیکشن کا فیچر اولین ائیر پوڈز میں متعارف کرایا گیا تھا۔اس ڈیوائس کو سب سے پہلے 2016 میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ائیر پوڈز 1 اور 2 میں ایپل نے ڈوئل آپٹیکل سنسرز استعمال کیے تھے جبکہ ائیر پوڈز 3 میں اسکن ڈیٹکٹ سنسر کا استعمال شروع کیا گیا۔ویسے یہ فیچر صرف ایپل کے وائرلیس ہیڈ فونز میں ہی نہیں بلکہ دیگر متعدد ہیڈ فونز اور ائیر فونز میں بھی موجود ہوتا ہے۔