راوی سائفن پر لاہور کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے مالکان نے واسا کو زمین دینے سے صاف انکار کر دیا
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کا خواب تاحال حقیقت کا روپ نہ لے سکا۔ نہری پانی کو قابل استعمال بنانے کا یہ منصوبہ اراضی کے حصول کے تنازعات میں بری طرح الجھ گیا ہے۔راوی سائفن پر مجوزہ پلانٹ کیلئے مالکان نے واسا کو زمین دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ واسا نے گزشتہ چھ سال میں زمین حاصل کرنے کے کئی حربے آزمائے، لیکن سب ناکام ہو گئے۔صورتحال اس حد تک بگڑ گئی ہے کہ زمین مالکان نے اپنی شکایات عالمی ڈونرز تک بھی پہنچا دی ہیں۔ اراضی مالکان نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی زمین منصوبے کے لیے دینے کو تیار نہیں۔ عالمی بینک نے بھی اس معاملے پر واسا سے استفسار کیا ہے۔زمین کے حصول میں ناکامی کے بعد منصوبہ کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہے۔ واسا نے پہلے زمین مالکان کو ڈی سی ریٹ پر ادائیگی کی پیشکش کی لیکن انہوں نے قبول نہ کیا۔ اس کے بعد واسا نے مارکیٹ ریٹ پر زمین خریدنے کا فیصلہ کیا اور تھرڈ پارٹی اویلیوٹر کے ذریعے تخمینہ لگایا، مگر مالکان نے اس پر بھی رضامندی ظاہر نہ کی۔متعدد اقدامات کے باوجود واسا انتظامیہ زمین کے حصول میں ناکام ہے اور سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہے۔ اراضی تنازعات کے حل کے بغیر لاہور کا یہ اہم منصوبہ آگے بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔