زمین کے تنازعات کا فیصلہ 2سال میں،وراثتی کیسز 12 ماہ میں نمٹائیں جائینگے
ٹائم لائنز میں تاخیر برداشت نہیں کی جائیگی :چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم
لاہور (کرائم رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے مختلف نوعیت کے مقدمات کے فیصلوں کیلئے واضح ٹائم لائنز مقرر کر دی ہیں۔چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا ہے کہ بروقت انصاف ہی عوام کا بنیادی حق ہے، جس میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔مقررکی گئی ٹائم لائنز کے مطابق زمین کے تنازعات کے اعلانیہ مقدمات 24 ماہ میں نمٹا ئے جائیں گے۔وراثتی تنازعات کے مقدمات 12 ماہ میں مکمل کئے جائیں گے ،زمین کے تنازعات میں حکم امتناعی کیسز 6 ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ ہو گا، ریکوری سوٹ اور منی میٹرز 12 ماہ میں نمٹانے کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ، معاہدوں کے نفاذ سے متعلق مقدمات 18 ماہ میں اورکرائے کے مقدمات 6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ فیملی سوٹ (تحلیل، مہر، دیکھ بھال، سرپرستی)6 ماہ ،جانشینی کے بلا مقابلہ مقدمات صرف 2 ماہ ، فیملی کورٹ کی ڈگری کے اجراء کی درخواستیں 6 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ ہو گا، بینکنگ کورٹ کی ڈگری پر اجراء کی درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے جبکہ سول کورٹ کی ڈگری پر اجراء کی درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ۔کرائے کے معاملات میں اجراء کی پٹیشنز 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ،نوعمر مجرموں کے ٹرائل (جیونائل جسٹس ایکٹ 2018) 6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ،سات سال تک سزا کے مقدمات کا 12 ماہ میں فیصلہ ہوگا،سات سال سے زائد سزا کے مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ،قتل کے مقدمات 24 ماہ میں مکمل کرنے کی ٹائم لائن مقرر کی گئی جبکہ لیبر مقدمات 6 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی جانب سے تمام ججز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ یہ ٹائم لائنز ہر صورت فالو کی جائیں تاکہ عوام کو جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔