پرائیویٹ اور سرکاری سیکٹرز کے اساتذہ کو بغیر لائسنس تدریس کی اجازت نہیں دی جائے گی، ٹیچرز میں تشویش کی لہر

نیا نظام متعارف  اساتذہ کیلئے لائسنس لازمی قرار
 عالمی معیار کے لائسنس کے حصول کیلئے تحریری امتحان اور انٹرویو لازمی ہوں گے،قومی زبان اور انگریزی میں مہارت بھی پرکھی جائے گی ،پرائمری، ایلیمنٹری اور سیکنڈری تدریسی لائسنس 5 سال کی مدت کے لیے جاری کیا جائے گا:محکمہ سکول ایجوکیشن 
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب میں اساتذہ کیلئے لائسنس لازمی قرار دیدیا گیا جس کے بعد اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، پنجاب میں اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس کا نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق اب پرائیویٹ اور سرکاری دونوں سیکٹرز کے اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس لینا لازمی ہوگا اور بغیر لائسنس کسی کو تدریس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق تدریسی لائسنس کے حصول کے لیے تحریری امتحان اور انٹرویو لازمی ہوں گے۔ تحریری امتحان میں امیدوار کے مضامین پر عبور، تدریسی صلاحیت اور تدریسی علم کو جانچا جائے گا جبکہ قومی زبان اور انگریزی میں زبان کی مہارت، ایچ ای سی نصاب کے مطابق اطلاق آئی سی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارت بھی پرکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید علمی، سماجی اور کمیونٹی سکلز کا بھی امتحان ہوگا۔انٹرویو کے مرحلے میں امیدوار کے رویے اور کمیونیکیشن سکلز کا جائزہ لیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ لائسنس عالمی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کی تین کیٹگریز ہوں گی، پرائمری، ایلیمنٹری اور سیکنڈری تدریسی لائسنس 5 سال کی مدت کے لیے جاری کیا جائے گا۔مزید برآں نئی بھرتی اور پروموشن صرف انہی اساتذہ کو دی جائے گی جن کے پاس تدریسی لائسنس ہوگا۔ لائسنس کے امتحان کے لیے ٹیسٹنگ ایجنسی کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جا سکا۔