ڈاکٹر اعجاز
سیاحت کا شوق ہمیں ترکی کے سفر پر لے گیا۔پر یہ سفر ایک اتفاقیہ سفر تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کتاب بینی سے وہ سب نہیں سیکھتا جو آپ کو ایک سفر نئی راہوں کے دریچے واں کر دیتا ہے۔سفر کو ہم ایک یونیورسٹی کا درجہ دے سکتے ہیں۔جس سے انسان اپنی زندگی میں نئے تجربات سے روشناس ہوتا ہیسفرقدم قدم پر آپ کو ورطہ حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔سفر چاہے اردو کا ہو یا انگریزی کاسفر دونوں میں آپ کو ثابت قدمی ، تحمل بردباری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔مطلب سفر کرنا ہی پڑتا ہے۔
ویزہ ملنے کے بعد ہم مطمئین تھے۔ کہ سارے راستے آسان ہو گئے ہیں۔ پر کسی شاعر کے بقول
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
لاہور ائیر پورٹ پر جس طرح کا سلوک پوچھ گچھ اور اسکریننگ کی گئی چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم اپنی نظروں میں ہی چور چور سے محسوس ہونے لگے۔اگر اس ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کا کوئی پلان ہے تو آپ کو سرخ فیتہ مافیا سے نجات لینی ہو گی۔ہمارا پہلا پڑاؤ استنبول تھا۔جہاں پر اسلامک اور یورپین زندگی کو اکٹھا دیکھا۔ایک پل سے گزرتے ہوئے بتایا گیا کہ ترکی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک طرف ایشین ہے اور دوسری طرف یورپین یہ امتزاج بھی خوب لگا۔کوئی شدت پسندی نظر نہیں آئی۔ یہی خوبی سیاحت کے لئے پہلا اصول ہے۔ ہمیں پتہ نہیں کب اس سے چھٹکارا ملے گا۔کوئی کسی کے کام میں مداخلت کرتا نظر نہیں آیا۔جدھر بھی گئے جس بازار میں گئے دکان میں گاہک ہے یا نہیں ہے۔ چہرے پر ایک طمانیت سکون دیکھا۔بھاؤ تاؤ یقیننا تھا۔ قیمتوں میں بھی بہت فرق دیکھا۔اپنی کرنسی کے حساب سے مہنگائی بھی زیادہ محسوس کی۔ہر دکان کے باہر بابوں کو کرسی ڈالے چائے پیتے سگریٹ نوش کرتے دیکھا۔جو فرق نوٹ کیا وہ ہمارے عمومی رویے کا ہے۔ ہم لوگوں کی زندگی میں چڑچڑاپن نمایاں ہے۔ماہر نفسیات ہی بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیونکر ہوا ہے۔
ان کے کاروباری حضرات کی ایک خوبی نمایاں تھی قیمت میں ضرور بھاؤ تاؤ کرتے ہیں۔ پر کوالٹی جیسی ہے وہ صاف بات کرتے ہیں۔ جھوٹ مار کر غلط بیانی کر کے چیز نہیں بیچتے۔
مساجد تقریبا ایک ہی نقشہ کی بنی ہوئی ہیں۔استنبول کو مساجد کا شہر بھی بولا جاتا ہے۔
بلیو مسجد قابل دید ہے۔ ایک چرچ کو مسجد کا درجہ دیا گیا ہے۔وہ اب صوفیہ مسجد کہلاتی ہے۔یہ دونوں مساجد آمنے سامنے ہیں۔
ترکی کے کھانے لاجواب ہیں۔ خاص کر گوشت سے تیار کردہ ڈشز۔مرچ کا ذائقہ تو بہت خوب ہے۔
پرائیویٹ سفر بہت مہنگا ہے۔ سیاحوں کو خوب لوٹتے ہیں۔
صفائی کا نظام اچھا ہے۔ پر کہیں کہیں لاہور جیسا لگا۔ اب علم نہیں ترکی میں ایسا لاہور کی صفائی کا ٹھیکہ حاصل ہونے کے بعد کی صورتحال کا شاخسانہ ہے۔ یاہم نیترکی کے اس صفائی کے معیار کو دیکھ کر دیا۔
ہاں یاد آیا وہاں ہو بہو ڈولفن پولیس کو دیکھا تو اپنے ملک کی ڈولفن پولیس یاد آئی پر ایک فرق تھا کہ کہیں بھی ان کا ناکہ نہیں دیکھا۔ دل میں ہوک اٹھی کہ کاش ہمارا ملک بھی ان ناکوں سے آزاد ہو جائے۔کہیں بھی پوچھ گچھ ہراسمنٹ نہیں دیکھی۔کہیں چالان کٹتے نہیں دیکھے۔ ایک اچھی بات نوٹ کی جہاں سے بھی روڈ کراس کیا گاڑی والے پہلے بریک لگاتے پیدل چلنے والوں کو ترجیح اور عزت دی جاتی کوئی ہارن کا شور طوفان بد تمیزی نہیں دیکھی ہمارے ہاں پیدل چلنے والوں کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے کیڑا مکوڑا سمجھا جاتا ہے۔ فٹ پاتھوں پر قبضہ مافیہ ہے۔ جیسے لاہور کے مال روڈ پر کیتھیڑ رل اسکول کے سامنے فٹ پاتھ پر قبضہ مافیہ نے قدم جمائے ہوئے ہیں۔ مجال ہے کوئی مائی کا لعل اس فٹ پاتھ کو کلئیر کر کے دیکھائے کیا پیرا فورس کیا وارڈنز سب کے پر جلتے ہیں۔
ترکی کا زیادہ انحصار سیاحت پر ہے۔ان کی کامیابی کی دوسری وجہ پولیس کی بے جا مداخلت کا نہ ہونا ہے۔ہم نے بھی اگر سیاحت کو انڈسٹری کی شکل دینی ہے۔ تو مرد مومن مرد حق کے بنائے گئے قوانین سے دستبرداری لینا ہو گی۔منہ سونگھنا، نکاح نامہ طلب کرنا چار دیواری کی پامالی۔ پولیس کا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا یہ سب سیاحت کے لئے زہر قاتل رویے ہیں۔ہمیں جہاں پر سیاحت کو فروغ دینا مقصود ہے وہاں الگ سے ایک فورس اور قوانین تشکیل دینے ہوں گے۔
ہمارے پاس ہر وہ چیز موجود جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے۔پر بد قسمتی سے ہمارے پاس بیچنے کے لئے اچھے سیل مین نہیں ہیں۔ہمیں اپنی چیزیں بیچنی نہیں آرہی یہی ایک المیہ ہے۔یا سرخ فیتہ آڑے آ جاتا ہے۔
مولانا رومی کے مزار پر رش کافی تھا۔ مجھے لاہور داتا دربار کی یاد آئی۔ہم کیوں نہیں اس طرح اپنے سیاحتی مذہبی مقامات کی پروجیکشن کر پائے؟
وہاں پر ایک چیز اور دیکھنے کو ملی آپ کو جوتے نہیں اتارنے پڑتے ایک بکس موجود جس میں شاپر ایک مخصوص ہئیت میں تیار بس ان سے جوتے کور کر لیں۔یہ پریکٹس ہمیں اوقاف کے منظور شدہ درباروں پر کرنی چاہئے۔نہ جوتے چوری ہونے کا ڈر نہ ٹوکن مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنیں۔
ایک اور فرق ائیرپورٹ سے نکلتے کوئی گداگر یا بھکاری سے واسطہ نہیں پڑا۔ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔جونہی پتہ چل جائے کہ یہ کوئی سیاح ہے تو ایک موج ظفر پیچھے لگ جاتی ہے۔اور جرائم پیشہ لوگ بھی۔
سیاحت کے فروغ میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے۔
واش روم اور غسل خانے ہر جگہ ایک ہی معیار کے ملے۔ لوٹا کلچر دیکھنے کو نہیں ملا۔سینٹری تیار کرنے والوں کو ترکی کے نظام پر غور کرنا چاہیے۔
ہم ایک دن کے لئے استنبول کے سمندر کے ساتھ بنے آئی لینڈز دیکھنے گئے۔ کروز پر سیر اور کھانا ایک الگ تجربہ تھا۔سوچا کہ کراچی میں ہمارے پاس ایک لمبی ساحل کی پٹی ہے۔ ہم یہ سب ادھر کیوں نہیں کر سکتے۔ہمارے کرتا دھرتا ایسے کاموں کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے۔ہم سمندر کے ساحل کو ترکی کے طریقہ کار کے مطابق بنا کر بہت اچھا ملک کے لئے ریونیو پیدا کر سکتے ہیں۔ہو سکتا ترکی میں زراعت زیادہ ہو پر جہاں سے ہم گزرے زراعت واجبی سی نظر آئی۔نہ نہری نظام نظر آیا نہ ٹیوب ویل وغیرہ پر جدید کاشت کاری نظر آئی۔کم جگہ پر کم فصل کم پانی لگا کر زیادہ فصل کا حصول نظر آیا۔ایسی جگہیں بھی دیکھی جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔پر انہوں نے اپنے لوگوں کو پڑھا سمجھا کر گائیڈ بنایا ہوا کہ وہ مٹی کو بھی سونا بنا کر بیچ رہے ہیں۔
ہمیں بھی اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے ملک کی ثقافت تاریخ اور سیاحت سے متعلق مضمون پڑھانے چاہئے اور گائیڈ تیار کرنے ہوں گے۔تا کہ ہم بھی دنیا کو اپنے ملک کی خوبصورتی دیکھا سکیں۔
ہمیں ائیر پورٹ پر کرفیو جیسا سماں سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ہمیں استنبول سے قونیہ اندرون پرواز کا موقع ملا۔ائیر پورٹ سے نکلتے ہوئے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔لاہور ائیر پورٹ پر اترتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ ہم اپنے ملک میں ہی بیگانے ہیں۔ دو بار چیکنگ اسکیننگ سمجھ سے بالاتر ایسے اقدامات دیکھ کر سمجھ آئی کہ ہم ابھی تک سیاحت کو اپنے ملک میں کیوں نہیں لا سکے۔
ہمارے پاس ایک ایونٹ تھا بسنت بہت اچھا جا رہا تھا۔ پر ہمارے ازلی دشمن نے بہت گھاؤ لگائے۔ کچھ ہمارے نا اقبت اندیش بیوروکریسی کے خود ساختہ اقدامات کی وجہ سے ہم دنیا کو اپنے ملک میں نہیں لا سکے۔اگر بسنت کو ہی ہم اچھے سے دنیا کے سامنے پیش کر دیں تو بھی ہم ایک بہت اچھی انکم ملک کے لئے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم میں ویڑن کی کمی ہے۔دیکھیں کب یہ خلاء پر ہو گا۔ اور ہمارا ملک بھی سیاحت میں اپنا حصہ وصول کرے گا۔