آج قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا قوی امکان ہے، جس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
حکومت جلد از جلد اس ترمیم کو منظور کروانا چاہتی ہے تاکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے عملی اقدامات شروع کیے جا سکیں۔جب صدر مملکت اس ترمیم پر دستخط کریں گے، تو اس کے فوراً بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے عملی قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں، آج قومی اسمبلی میں اس ترمیم پر بحث دوبارہ شروع ہو گی اور حکومت کو امید ہے کہ شام تک ایوان سے منظوری حاصل کر لی جائے گی۔اس کے بعد، 27 ویں آئینی ترمیم کا بل صدر مملکت کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، اور دستخط ہوتے ہی یہ ترمیم آئین کا مستقل حصہ بن جائے گی۔
اگر آج بل منظور ہو جاتا ہے، تو کل جمعرات کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز سے حلف لیا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ عدالت عملی طور پر قائم ہو جائے گی۔واضح رہے کہ، اس ترمیم کے مطابق، صدر مملکت، وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا تقرر کریں گے۔ سینیٹ پہلے ہی اس مجوزہ بل کی منظوری دے چکی ہے، اور اب اس کی منظوری قومی اسمبلی سے ضروری ہے۔