پنجاب میں سموگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود، موٹرویز بند، پروازیں معطل

پنجاب میں سموگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود، موٹرویز بند، پروازیں معطل

ویب ڈیسک:پنجاب میں بڑھتی ہوئی سموگ کے پیش نظر صوبائی حکومت نے عوام کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔

 صوبے کے بڑے شہروں لاہور، ملتان، فیصل آباد، اور گوجرانوالہ میں آلودگی کی شدت کو کم کرنے کے لیے دکانیں، شاپنگ مالز، اور مارکیٹیں رات 8 بجے تک بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے متعدد علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں اور خلاف ورزی کرنے والی دکانیں سیل کر دی گئیں۔ ہال روڈ، مال روڈ، اور پینوراما شاپنگ سینٹر کے تاجروں نے اس حکومتی حکم کی تعمیل میں دکانیں وقت پر بند کردیں۔حکومت کی جانب سے 11 نومبر سے 17 نومبر تک مخصوص پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ریسٹورنٹس میں آؤٹ ڈور ڈائننگ، آؤٹ ڈور گیمز، نمائشوں اور عوامی تقریبات پر پابندی عائد ہے۔ تاہم، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، پٹرول پمپس اور کریانہ سٹورز کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جبکہ لاہور میں کوئی بھی بڑی گاڑی بغیر اینٹی اسموگ سرٹیفکیٹ کے داخل نہیں ہو سکتی۔

شدید سموگ کے باعث نہ صرف زندگی کے معمولات بلکہ سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔ حد نگاہ کم ہونے کے باعث لاہور سے کوٹ مومن تک موٹروے ایم 2، پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک ایم 4، اور لاہور سیالکوٹ موٹروے بھی دھند کے باعث بند کر دی گئی ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سموگ کی وجہ سے ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر اور پروازوں کی معطلی بھی جاری ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان میں سموگ کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر میں لاہور اور ملتان پر سموگ کی گہری پرت دیکھی گئی ہے، جس میں سڑکیں اور عمارتیں دھند کی لپیٹ میں دکھائی دیتی ہیں۔موٹروے پولیس نے مسافروں کو دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے اور مزید کہا ہے کہ دھند میں گاڑی چلانے والے آگے اور پیچھے دھند والی لائٹس کا استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور تیز رفتاری سے بچیں۔ ہیلپ لائن 130 پر کسی بھی معلومات یا مدد کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔