میری بیٹی

غلام علی جاوید
اگرماضی کے جھروکے سے خاندانی روایات میں جھانکا جائے تو ماں اور بیٹی کے رشتے کا ایساحسن جھلکتا ہے کہ انسان دو نسلیں پیچھے جانے کی خواہش کرتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی ماں کو یہ فکر لاحق ہو جاتی تھی کہ اس کی زندگی کو پرسکون اور باعزت کس طرح بنا نا ہے ؟ ماں کی کوشش ہوتی تھی کہ پیدائش کے اگلے دن ہی سے بیٹی کے حسن اور خدوخال کو ایسا ڈھالے کہ دنیا کی تمام لڑکیوں سے زیادہ خوب صورت اور  باحیا لگے ۔ بیٹی کے سر کو گول بنانا ، پیشانی کی الجھی صورت کو سنوارنا، ناک کو تلوار کی طرح باریک بنانا ماں اپنا اوّلین فریضہ سمجھتی تھی۔بیٹی کے  نام تجویز کئے جانا کا سلسلہ شروع رہتا تھا۔ جب جب بچی روتی تھی ماں اس کو لوری کی چھائوں میں سُلاتی تھی جس کے زیادہ تر بول یہ ہوتے تھے ’’اللہ ہو اللہ ہو، سو جا تو اللہ ہو اللہ ہو‘‘  جیسے جیسے بیٹی کے قدو قامت میں اضافہ ہوتا جاتا ماں کی مامتا جوان ہوتی جاتی۔ 
رقص ِچاہت کا ایسا اہتمام کرتی ہے ماں
جیون سارا بیٹی کے نام کرتی ہے ماں
زلفیں سنوریں یانہ سنوریں مگر
نقش سنوارنے میں صبح شام کرتی ہے ماں
دل ہی دل میں بیٹی کے مقدر کے بارے میں سوچتے رہنا ، رشتے کی فکر لگے رہنا، جہیز کا سامان بناتے رہنا، تربیت میں دن سے رات کرتے رہنا ماں کا معمول بن جاتا تھا۔ جیسے ہی بیٹی کے شعور کی قوس قزا نمو دار ہوتی  ،ویسے ہی اس کی تربیت کا عکس پھیلتا جاتا ،ماں نے بتانا کہ فلاں خاندان اس طرح کی رسم و رواج کا مالک ہے ان کا اٹھنا بیٹھنا اس طرح ہے لہٰذا اُن کے ساتھ ایسے رہنا ہے۔ فلاں کے ساتھ اس طرح بولنا ہے ۔ فلاں آئے تو کھانے پینے کی چیزیں کیسے پیش کرنی ہیں؟ بولنے میں ایسا انداز اپنا نا ہے وغیرہ وغیرہ۔جس دن سے کسی لڑکی کی منگنی ہو جاتی اُسی دن سے وہ اپنے منگیتر کے نام سے پہچانے جانے لگتی۔منگیتر کا نام سن کر شرمانا، منگیتر کے خوابوں خیالوں میں رہنا، منگیتر کے نام سے سہیلیوں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ زندگی کا حسن تصور کیا جاتا تھا۔لڑکی کا منگیتر سے بات کرنا یا سامنے آنا معیوب سمجھا جاتا تھامگر رشتے کا بندھن مضبوط ہوتا تھا۔رشتے کا تقدس بحال رہتا تھا۔چاہت کی ڈور مضبوط ہوتی تھی ۔ جدائی کا تصور ہی نہیں ہوتا تھا۔پورے شوق، چاہت اور مروت سے جہیز کا سامان تیار کیا جاتا تھا۔ سسرال کی طرف سے ہر طرح کا بھرم رکھا جاتا تھا۔ جس گائوں میں لڑکی بیاہی جاتی تھی اس پورے گائوں کا احترام کیا جاتا تھا۔
موجودہ دور میںکچھ مائوں کو ٹی ۔وی ڈراموں نے ڈس لیا ہے۔موبائل نے اپنی طرف مائل کر لیا ہے۔ مغربی طرز کے تخیلات نے جنم لے لیا ہے جس کی وجہ سے عورت نے غفلت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔اپنی خاندانی اور روایتی ذمہ داریوں سیبے خبر سی ہو گئی ہے۔ بیٹی کوسوشل میڈیا کی میٹھی زہر نے بیمار کر دیا ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس زہرکو پیتی جارہی ہے اور بیمار سے بیمارترہوتی جارہی ہے اور خاندانی روایات سے نا شناسا جئے جا رہی  ہے۔ باپ کے گھر آتے ہی گھر میں سناٹا ساچھا جانا، خواتین نے فوری دوپٹہ سر پہ رکھ لینا، وہ منظر بھی کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ دادی اور نانی کی کہانیاںکسی دور نگر چلی گئی ہیں۔ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانا جو محبت کا چمکتا ستارہ تھا وہ بھی ماند سا پڑ گیا ہے۔
اگر ہم تھوڑا سا حقیقت پسند ہو جائیں ۔ اپنی روایات کا قرض چکانے کا ارادہ کر لیں تو سچی محبت، خاندانی رکھ رکھائوکی خوشبو واپس لوٹ سکتی ہے۔ پر سکون ہوا کے جھونکے پھر سے آ سکتے ہیں۔ روٹھی ہوئی خوشیاں  در کی سوالی بن سکتی ہیں۔ کھوئی ہوئی روایات اس نگر بسیرا کر سکتی ہیں ۔ سلسلے چاہتوںکے باقی رہ سکتے ہیں۔ماں بیٹی کی باہمی الفت پھر سے زندہ ہو سکتی ہے۔بیٹی کے مقدر کے شکوے ختم ہو سکتے ہیں ۔ رشتوں کی ڈور مضبوط ہو سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ماں نے خواب غفلت سے جاگنا ہے یا باپ نے اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا ہے یا بیٹی نے پہلوئِ مادر میں مسکن بنانا ہے۔