میرے الفاظ، میری دعا

ملک حبیب الرحمن خان

تمہارا نام ان لوگوں میں لکھا جانا چاہیے جنہوں نے اہلِ فلسطین کی مدد کے لیے کوشش کی جو کوئی بھی اس جہاد میں غزہ کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے وسیلہ بنے گا، اللہ تعالیٰ اس کو وہی اجر عطا فرمائے گا جو میدانِ جنگ میں شریک ہونے والے مجاہد کو دیا جاتا ہے۔ یہ بات صرف جذبہ یا نعرہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک شرعی حقیقت ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں فلسطین کے مظلوموں کی مدد:
1. قرآنی حکم: مسلمانوں کی مدد واجب ہے
"اور اگر وہ (مسلمان) دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں، تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔"
[سورہ الانفال: 72]
2. امتِ مسلمہ ایک جسم ہے

"مؤمنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جب جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔"
[بخاری و مسلم]
3. جو مجاہد کو سامان دے، وہ بھی مجاہد کے برابر ہے

"جس نے مجاہد کو سامان دیا، گویا اس نے خود جہاد کیا۔"
[صحیح بخاری: 2843]
4. مظلوموں کے لیے جہاد کا حکم

"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں اور مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے قتال نہیں کرتے؟"
[سورہ النساء￿ : 75]
5. مسلمان کو بے یار و مددگار نہ چھوڑنا
"مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے۔"
[صحیح مسلم: 2564]
 ہم سب پر کیا لازم ہے؟
فلسطینی بھائیوں کے لیے دعائیں کی جائیں مالی امداد کی جائے (قابلِ اعتماد اداروں کے ذریعے)۔
سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کی جائے ظالموں کے خلاف حق بات کہی جائیہر ممکن ذریعے سے سفارتی و سماجی حمایت دی جائے امتِ مسلمہ کو بالخصوص اہلِ پاکستان کو پکار رہا ہوں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے لیے
جسم و جان، مال و دعا، آواز و عمل کے ساتھ کھڑے ہوں اپنا نام ان لوگوں میں شامل کرو جو اہلِ فلسطین کے مددگاروں میں لکھے جائیں گے، نہ کہ ان خاموش تماشائیوں میں جو تاریخ کے مجرم قرار پائیں گے اللہ ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کی توفیق دے، اور اس کوشش کو قبول فرمائے۔ آمین۔