ایرانی صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت جواب: "جو کرنا ہے کر لو"

ایرانی صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت جواب:

ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے سخت جواب دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، پزشکیاں نے کہا، "ہم دھمکیوں میں آ کر مذاکرات نہیں کریں گے، جو کرنا ہے کر لو۔"یہ ردعمل اس وقت آیا جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک خط بھیجا تھا اور اپنی پالیسی میں سختی کا اعادہ کیا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کسی دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔ٹرمپ نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو دوبارہ لاگو کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کو عالمی معیشت سے الگ کرنا اور اس کی تیل کی برآمدات کو صفر کے قریب لانا ہے۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران سے نمٹنے کے لیے دو ہی راستے ہیں: یا تو فوجی کارروائی کی جائے یا پھر نیا جوہری معاہدہ کیا جائے۔

ایران جوہری ہتھیار بنانے کے الزام کو مسترد کرتا آیا ہے، لیکن بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق، ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک کر لی ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایران نے 2019 کے بعد اپنی جوہری سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے، جب امریکہ نے 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی اور سخت پابندیاں دوبارہ عائد کی تھیں، جن سے ایرانی معیشت متاثر ہوئی تھی۔