پنجاب کے ہسپتا لوں میں ادویات اور طبی آلات کے بحران کا خطرہ

 لاہور (آئی این پی )پنجاب کے ہسپتا لوں میں ادویات اور طبی آلات کے بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔  نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی حکومت کو ادویات اور میڈیکل آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساڑھے 12 ارب روپے ادا کرنا ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان ساڑھے  12 ارب روپے میں نگراں دور میں خریداری کی رقم بھی شامل ہے۔  سیکرٹری پرائمری ہیلتھ نے حکم دیا ہے کہ نگراں دور کے پیسے جاری نہیں کئے  جائیں گے، اجلاس میں الزام عائد کیا گیا کہ نگراں دور میں ادویات وغیرہ کی خریداری کی مد میں گڑ بڑ کی گئی۔صوبائی وزیر صحت برائے پرائمری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے ادائیگی روکنے کی تصدیق کردی۔ انہوں نے کہا کہ اعلی سطح کے اجلاس میں معاملہ زیر غور آیا تھا۔ خواجہ عمران نذیر کے مطابق جو پیسے رکے ہوئے ہیں، ان کی ادائیگی پر غور کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نگراں دور میں اگر گڑ بڑ ہوئی تو مقدمہ درج کرایا جائے اور ذمہ  داروں کو پکڑا جائے۔ چیئرمین الیکٹرو میڈیکل ایسوسی ایشن بابر کیانی کے مطابق حکومت کو ہمارے ساڑھے 6 ارب روپے ادا کرنا ہیں، محکمہ خزانہ کو بتا چکے ہیں کہ پیسے ادا نہ کیے تو سپلائی روکنے پر مجبور ہوں گے۔ فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے رہنما سعد جاوید نے کہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کے 6 ارب روپے سے زیادہ کی رقم رکی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، فوری پیسے جاری نہ ہوئے تو معاملہ چلنا مشکل ہوسکتا ہے۔