چینی فغانستان سمگل نہیں برآمد ہو رہی ہے‘شوگرملزکی مکمل مانیٹرنگ کیلئے جدیدنظام کوبروئے کار لایا جارہا ہے: محمد اورنگزیب کی عطاتارڑ کیساتھ پریس کانفرنس
پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے‘شراکت داروں کا تعاون ضروری ہے:محمد اورنگزیب کی اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر سے گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے بارڈر سے چینی افغانستان اسمگل نہیں ہو رہی بلکہ برآمد ہو رہی ہے،ایف بی آر نے شوگر ملز میں مانیٹرنگ نظام قائم کیا ہے، شوگرملزکی مکمل مانیٹرنگ کیلئے جدیدنظام کوبروئے کار لایا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہو ںناے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا فروری میں ریکارڈ 3.1 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمارے سفیر اور لائف لائن کا درجہ رکھتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں ترسیلات زر بلند ترین سطح پر رہیں گی اور مجموعی طور پر 36 ارب ڈالر موصول ہونی کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام سرویز کاروبار اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کی نشاندہی کررہے ہیں،دریں اثناء وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی ان سے ملاقات میں کہی ۔ ملاقات میں قرضوں کے انتظام، تنظیم نو اور ماحولیاتی فنانسنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی ملاقات میں پائیدار ترقی کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔