تجارتی جہازوں پر حملے، بھارت کا امریکا سے احتجاج، امریکی سفارتخانے کے نائب سربراہ کی طلبی

تجارتی جہازوں پر حملے، بھارت کا امریکا سے احتجاج، امریکی سفارتخانے کے نائب سربراہ کی طلبی

بھارت نے عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہازوں پر مبینہ امریکی حملوں کے معاملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلی تحقیقات اور جواب طلب کر لیا ہے، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا، جہاں بھارتی حکام نے واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسے “سنجیدہ تشویش” قرار دیا۔ بھارتی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تجارتی جہاز رانی پر کسی بھی قسم کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے اور اس سے خطے میں سمندری سلامتی متاثر ہوتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اس معاملے پر بھارت کی جانب سے تین روز میں دوسری مرتبہ باضابطہ سفارتی رابطہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی اس پیش رفت کو انتہائی اہم اور حساس سمجھ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز عمان کے قریب آئل ٹینکر “سیٹی بیلو” پر مبینہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، جو جہاز کے عملے کا حصہ تھے۔ واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے فوری طور پر اپنے شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی اور مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب ایک اور واقعے میں جہاز “جلویر” کو نشانہ بنانے کے بعد اس کے عملے کے 20 افراد کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا۔ اس واقعے نے بھی خطے میں بحری تحفظ اور تجارتی راستوں کی سلامتی سے متعلق سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں پہلے ہی جغرافیائی اور اسٹریٹجک کشیدگی موجود ہے، اور کسی بھی بڑے واقعے سے عالمی توانائی اور تجارتی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔بھارت نے زور دیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح قواعد و ضوابط اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔