پنجاب میں شرمپ فارمنگ کو زرعی معیشت میں انقلاب کی حیثیت دینے کی تیاری

پنجاب میں شرمپ فارمنگ کو زرعی معیشت میں انقلاب کی حیثیت دینے کی تیاری

پنجاب حکومت نے شرمپ فارمنگ کو زرعی معیشت کا اہم ستون بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت اور فشریز کے شعبے کے لیے 125 ارب 52 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 44 ارب 15 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی سفارش شامل ہے۔حکام کے مطابق شرمپ ویلیو چین منصوبوں کے ذریعے برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چولستان، جنوبی پنجاب اور دریائی علاقوں میں آبی زراعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔بہاولپور، رحیم یار خان، راجن پور، مظفرگڑھ اور سرگودھا میں شرمپ فارمنگ کے منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تجاویز میں لاہور میں جدید ماڈل فش مارکیٹ کے قیام اور لاہور، شیخوپورہ، سرگودھا اور خانیوال میں ایکوا بزنس ہبز بنانے کی سفارش بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ مچھلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہیچریوں کی اپ گریڈیشن اور بحالی کے منصوبے بھی زیر غور ہیں، جبکہ مری میں ٹراؤٹ ہیچری کی اپ گریڈیشن اور فش سینٹر کے قیام کے لیے ماسٹر پلان تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔