عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور امریکہ-ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی حالیہ صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے، جس کی وجہ سے آج رات طے شدہ فضائی حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
معاہدہ اور مذاکرات:
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا، ایران اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔معاہدے کے مطابق، ایران کی بحریہ کی ناکہ بندی جاری رہے گی جب تک کہ معاہدے پر باقاعدہ دستخط نہ ہو جائیں۔معاہدہ میں شامل اہم نکات میں جنگ بندی کو مضبوط بنانا، بعض منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا شامل ہیں۔ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات بعد میں جاری رہیں گے۔معاہدے کے تفصیلی نکات اور دستخط کی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
خطے میں کشیدگی اور صورتحال:
امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان محدود حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔صدر ٹرمپ نے کچھ دیر قبل یہ بھی کہا تھا کہ وہ آج رات سے ایران پر سخت حملے شروع کریں گے اور ایران کے پیٹرول و گیس کے ذخائر پر قبضہ کر لیں گے، لیکن بعد میں انہوں نے معاہدے کا اعلان کیا۔
ایران کی طرف سے ردعمل:
ایرانی حکومت کی جانب سے ابھی تک صدر ٹرمپ کے معاہدے کے نکات پر اتفاق یا تردید کا کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عبوری سمجھوتے پر بات چیت جاری ہے، جس میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔