شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے بھٹو کے بعد دوسرے شخص بننے جا رہے ہیں
لاہور(آئی این پی )پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال ہونا چاہیے جو بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ اللہ کے فضل سے میاں شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے ذولفقار علی بھٹو کے بعد دوسرے شخص بننے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار سے کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بدترین کارکردگی کبھی کسی حکومت کی نہیں ہوئی ۔ آج پاکستان میں سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے ۔ آج ہم انسداد دہشتگری عدالت میں کھڑے ہیں۔ جو پاکستان کے ساتھ حکومتیں دہشتگردی کر رہی ہیں کیا ان کو بھی یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے؟۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ اب کہا گیاآنے والا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہو گا ۔ جب جہاز خریدے جاتے ہیں تو اس وقت آئی ایم ایف انہیں نہیں روکتا۔ اسکیمیں بنا کر جو لوگ امیر ہو گئے ہیں ان سے ٹیکس وصول کرنے سے بھی نہیں روکتا ۔ جو شخص بس میں سفر کرتا ہے اسے بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ اس بجٹ میں حکومت 1500 ارب کا ٹیکس وصول کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاستدانوں کا کام ہی نہیں ہے کہ کس کو جیل میں ڈالے اور کس کو نہیں۔ یہ عدالتیں انصاف کے نظام کے لیے بنی ہوئی ہیں۔ اس وقت دنیا میں جنگ چھڑی ہے، اسرائیل دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے ۔ اسرائیل دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اس میں پاکستان کا قصور تو نہیں ہے ۔اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 113 روپے لیوی کردی ۔ پی ٹی آئی حکومت نے عوام پر ٹیکس لیوی 0 کردی تھی ۔ جو آج حکومت میں بیٹھے ہیں انہوں نے آ کر کہا کہ حکومت نے آ کر ٹیکس صفر ہو جائے گا ۔ اب اس حکومت کو چاہیے کہ معافی مانگے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے اپنے کیسز بند کروانے تھے وہ کروا لیے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنے دیں، جس سے ملک بہتر ہوگا۔