نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی

نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی

ویب ڈیسک: نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے ظاہر زاکر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔

درخواست سینئر وکیل خواجہ حارث کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں عدالت سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا:
عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کرایا، حالانکہ سپریم کورٹ میں ایک میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی متفرق درخواست بھی دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
ملزم کو سزائے موت سناتے وقت عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگز پر انحصار کیا، لیکن یہ ویڈیوز نہ تو ٹیکنیکل طور پر ثابت کی گئیں اور نہ ہی ملزم کو فراہم کی گئیں۔دوران ٹرائل ان ویڈیوز کو چلا کر نہیں دکھایا گیا، اور نہ ہی ان کی مصداقیت پر غور کیا گیا۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ:"فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس قانونی و آئینی وجوہات موجود ہیں۔ عدالت نے دفاع کے متعدد نکات کو نظرانداز کیا، اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے عدالت اپنے فیصلے پر ازسرِنو غور کرے۔"
پس منظر:
واضح رہے کہ نور مقدم قتل کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تینوں نے ظاہر جعفر کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ اب مجرم کی جانب سے یہ درخواست آخری قانونی آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔