زندگی کا اصل مقصد

 محمد باقر جاوا
زندگی کا اصل مقصد وہ سوال ہے جو انسان نے شعور پاتے ہی خود سے پوچھا مگر صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا جواب ہر دور، ہر معاشرے اور ہر فرد کے لیے مختلف رہا۔ کوئی اسے دولت کے حصول میں تلاش کرتا ہے، کوئی اقتدار میں، کوئی شہرت میں اور کوئی محض ا?سائشوں کے گرد گھومتی زندگی کو ہی کامیابی سمجھ لیتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ا?شکار ہوتی چلی جاتی ہے کہ یہ سب چیزیں وقتی  اور عارضی ہیں جو انسان کے دل میں موجود اس گہرے خلا کو مستقل طور پر نہیں بھر سکتیں جسے وہ مقصدِ حیات کا نام دیتا ہے۔۔انسان کی زندگی محض سانس لینے، کھانے پینے، سونے اور مر جانے کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان اور جانور میں کوئی فرق باقی نہ رہتا۔ انسان کو عقل، شعور، ضمیر اور احساس اسی لیے عطا کیا گیا کہ وہ اپنی زندگی کو محض جسمانی ضروریات تک محدود نہ رکھے بلکہ اس کے پیچھے چھپے کسی بڑے مقصد کو سمجھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں زندگی ایک عام سفر سے نکل کر ایک بامعنی جدوجہد بن جاتی ہے۔۔اکثر لوگ زندگی کا مقصد خوشی کو قرار دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خوشی کیا ہے؟ کیا خوشی صرف ہنسی، مسکراہٹ اور وقتی مسرت کا نام ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دولت مند، طاقتور اور مشہور لوگ سب سے زیادہ خوش نظر ا?تے جبکہ حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوشی بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ ایک نتیجہ ہے جو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کو کسی بامقصد راستے پر ڈال دیتا ہے۔زندگی کا اصل مقصد دراصل معنی پیدا کرنا ہے۔ ایسا معنی جو انسان کو یہ احساس دے کہ اس کا وجود بیکار نہیں، اس کی سانسیں محض فضا میں تحلیل ہونے کے لیے نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر کائنات میں توازن، بہتری یا روشنی کا سبب بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ زیادہ مطمئن نظر ا?تے ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں، جو کسی کے دکھ بانٹ لیتے ہیں، کسی کے زخم پر مرہم رکھ دیتے ہیں یا کسی اندھیرے میں امید کی ایک کرن بن جاتے ہیں۔انسان جب صرف اپنی ذات تک محدود ہو جاتا ہے تو اس کی دنیا بھی سکڑ جاتی ہے۔ اس کی خوشیاں مختصر، غم شدید اور مایوسیاں گہری ہو جاتی ہیں۔ مگر جب وہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں سے جڑتا ہے، کسی مقصد، کسی نظریے یا کسی خدمت کے ساتھ خود کو وابستہ کرتا ہے تو اس کی زندگی میں وسعت ا? جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی ناکامی صرف اس کی نہیں اور اس کی کامیابی بھی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی۔۔زندگی کا مقصد تلاش کرنے کا ایک اہم پہلو خود شناسی ہے۔ جب تک انسان خود کو نہیں جانتا، اپنی کمزوریوں، اپنی صلاحیتوں اور اپنی اصل خواہشات کو نہیں پہچانتا وہ کسی بیرونی مقصد کو اپنا کر بھی اندر سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ بہت سے لوگ دوسروں کی توقعات، سماجی دباو? یا خاندانی خواہشات کے تحت راستے چن لیتے ہیں مگر اندر ہی اندر ایک خلا باقی رہتا ہے جو انہیں بے چین رکھتا ہے۔ اس بے چینی کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصل ا?واز کو نظرانداز کر بیٹھتے ہیں۔زندگی کا مقصد کسی ایک بڑے کارنامے میں بھی قید نہیں ہوتا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان تاریخ میں اپنا نام چھوڑے یا کوئی غیر معمولی انقلاب برپا کرے۔ بعض اوقات زندگی کا مقصد ایک اچھا انسان بننا، ایک ذمہ دار والد یا والدہ ہونا، ایک مخلص دوست ہونا یا اپنے حصے کا کام ایمانداری اور دیانت کے ساتھ انجام دینا بھی ہو سکتا ہے۔۔دین اور روحانیت بھی زندگی کے مقصد کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مذہبی نقطہ? نظر سے دیکھا جائے تو زندگی ایک امتحان ہے، ایک امانت ہیجس میں انسان کو اپنے اعمال، نیت اور رویّوں کا حساب دینا ہے۔ یہ تصور انسان کو محض دنیاوی کامیابی سے اوپر اٹھا کر ایک اخلاقی اور روحانی دائرے میں داخل کر دیتا ہے جہاں ہر عمل کی قدر و قیمت صرف اس کے ظاہری فائدے سے نہیں بلکہ اس کے اثرات اور نیت سے جڑی ہوتی ہے۔زندگی کا مقصد وقت کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے اور یہ کوئی کمزوری نہیں۔ نوجوانی میں جو مقصد اہم لگتا ہے ممکن ہے بڑھاپے میں اس کی جگہ کوئی اور سوچ لے لے۔ یہ تبدیلی دراصل انسان کے شعور کی ارتقا کی علامت ہوتی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان کسی بھی مرحلے پر مقصد سے بالکل خالی ہو جائے۔ بے مقصد زندگی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور یہی کیفیت ڈپریشن، مایوسی اور بے سمتی کو جنم دیتی ہے۔زندگی کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ مقصد ہمیشہ واضح الفاظ میں سامنے نہیں ا?تا۔ بعض اوقات انسان چلتے چلتے، ٹھوکریں کھاتے ہوئے، ناکامیاں سہتے ہوئے اپنے مقصد تک پہنچتا ہے۔ یہ راستہ سیدھا نہیں ہوتا مگر ہر موڑ، ہر زخم اور ہر تجربہ انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ اگر انسان ان تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرے تو یہی اس کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔۔ زندگی کا اصل مقصد شاید یہی ہے کہ انسان اپنی دی گئی صلاحیتوں کو پہچانے، انہیں مثبت انداز میں استعمال کرے، اپنے وجود سے خود بھی مطمئن ہو اور دوسروں کے لیے بھی ا?سانی پیدا کرے۔ ایسی زندگی جو ختم ہونے کے بعد بھی کسی کے دل میں دعا، کسی کی یاد میں مسکراہٹ یا کسی کے راستے میں روشنی چھوڑ جائے وہی حقیقی معنوں میں بامقصد زندگی کہلانے کی حق دار ہوتی ہے۔ انسان اگر یہ سمجھ لے کہ اس کی زندگی محض اس کی نہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود ہر شخص سے جڑی ہوئی ہے تو شاید اسے زندگی کے اصل مقصد کی جھلک مل جائے۔