پچھلے سال حکومت نے اپنے ٹارگٹ سے ایک ہزار ارب کم ٹیکس اکٹھا کیا، لوگوں اور معیشت کا چمڑا بھی نچوڑ لیا
اسلام آباد(آئی این پی )سینئر سیاستدان مصطفی نواز کھوکھر نے بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے ۔اپنے ایک بیان میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو حکومت نے بہت بڑا ریلیف دے دیا تالیاں، حقیقت کیا ہے؟ ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ پر دو ہزار روپے، ڈیڑھ لاکھ پر چار ہزار، دو لاکھ پر پانچ ہزار چھ سو کی سخاوت کی گئی ہے، اس پر حکومت کے کیا کہنے، اسی طرح تباہ حال زراعت اور کسانوں کے لیے حکومت کا بڑا ریلیف واہ واہ، حقیقت کیا ہے؟ حکومت نیا ٹیکس نہیں لگائے گی، قومی بیج پالیسی تیار کرے گی اور 300طلبا کو چین زراعت پڑھنے کے لیے بھیجے گی، سبحان اللہ۔سابق سینیٹر کا کہنا ہے کہ حکومت نے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر اڑھائی روپے اِضافی ٹیکس لگا دیا تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے بچا جا سکے، کمال ہو گیا، حقیقت کیا ہے؟۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت اس سال 14 ہزار ارب روپے ٹیکس میں اکٹھا کرے گی اور شرح نمود 4.2 فیصد ہوگی، حقیقت؟ پچھلے سال حکومت نے اپنے ٹارگٹ سے ایک ہزار ارب کم ٹیکس اکٹھا کیا، لوگوں اور معیشت کا چمڑا بھی نچوڑ لیا تو مزید ٹیکس کہاں سے آئے گا اور معیشت خاک ترقی کرے گی؟۔