ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک معروف ریسٹورنٹ کی جانب سے شلوار قمیض پہننے والے شہری کو داخلے سے روکنے کا واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ہنگامہ برپا ہو گیا ہے، اور شوبز شخصیات نے بھی اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
واقعے کے مطابق، 18 مئی کو ایک شہری اپنے دوستوں کے ساتھ شلوار قمیض پہن کر ریسٹورنٹ گیا تو عملے نے اسے داخلے کی اجازت نہیں دی۔ شہری کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے کہا:
“شلوار قمیض غریبوں کا لباس ہے، ہم پینڈو لوگوں کو کھانا نہیں دیتے۔”
فنکاروں کا ردعمل:
اداکارہ مشی خان نے ویڈیو بیان میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:“یہ شرمناک واقعہ ہے۔ شلوار قمیض ہمارا قومی لباس ہے اور اسے پہن کر کسی جگہ نہ جانے دینا ہماری ثقافت کی توہین ہے۔”اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا:“شلوار قمیض کے ساتھ کچھ زیادہ ہی بدتمیزی ہو رہی ہے۔ کئی کلب اور ریسٹورنٹس میں یہ نیا ڈرامہ شروع ہو گیا ہے۔ انگریز بننے والوں کو اردو والا حال کریں گے۔”
قانونی کارروائی:
متاثرہ شخص نے اس واقعے پر کنزیومر کورٹ میں باضابطہ مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور عوامی حلقوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔
سوشل میڈیا صارفین کا مؤقف:
سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت نے اس واقعے کو "ثقافتی امتیاز" اور "طبقاتی تعصب" قرار دیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ قومی لباس کی تضحیک کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے رویے کو روکنے کے لیے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔