ویب ڈیسک : معروف بھارتی پنجابی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ اور پاکستان کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر کی پنجابی فلم 'سردار جی تھری' نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کرلی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کو بھارت میں ریلیز کی اجازت نہیں ملی، لیکن اس کے باوجود فلم نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں 420 ملین روپے کا بزنس کر لیا، اور 2025 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پنجابی فلم بن گئی۔
مودی حکومت کو سکھ کمیونٹی کا سخت پیغام
بھارتی حکومت نے فلم سے ہانیہ عامر کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے فلم سازوں اور دلجیت دوسانجھ نے سختی سے مسترد کر دیا۔ نتیجتاً فلم کو بھارت میں ریلیز کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ تاہم، دنیا بھر کی پنجابی بولنے والی کمیونٹی، خصوصاً سکھ برادری نے فلم کو بھرپور پذیرائی دی اور اسے ایک تاریخی کامیابی بنا دیا۔
پاکستانی سینما گھروں میں شاندار ردعمل
پاکستان میں فلم کو بے حد سراہا گیا، اور صرف پہلے ہفتے میں ہی فلم نے 7 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا۔ مختلف شہروں میں شوز ہاؤس فل رہے، جس سے فلم کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کا سوال
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے مودی سرکار پر سوال اٹھایا کہ "اگر کرکٹ پاکستان کے ساتھ کھیلی جا سکتی ہے تو فنکاروں پر پابندی کیوں؟" انہوں نے پاکستان اور سکھوں کی ثقافت کو مشترکہ قرار دیتے ہوئے فنکاروں کے تبادلے کی حمایت کی۔
عالمی سطح پر پذیرائی
فلم نہ صرف پاکستان بلکہ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں بھی کامیاب رہی، جہاں سکھ اور پنجابی کمیونٹی نے فلم کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ فلم رواں سال کی اب تک کی سب سے بڑی پنجابی فلم بن گئی ہے، اور مجموعی طور پر پنجابی فلم انڈسٹری کی تاریخ کی 12ویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم قرار پائی ہے۔