نئی وبا سے پوری دنیا لپیٹ میں آئیگی عرصے سے ایسا وائرس نہیں دیکھا ،فلوکاٹیکہ نہ لگوانے والے شدیدبیمارہوسکتے : ماہرین
اسلام آباد(بیورو رپورٹ)ماہرین نے خبردار کیاہے کہ دنیا میں ایک خطرناک فلو سیزن آ رہا ہے، جس کی ایک وجہ وائرس کا ایک نیا تبدیل شدہ ورڑن ہے۔یہ ویرینٹ جسے جاپان اور برطانیہ میں فلو کے کیسز میں اضافے سے جوڑا گیا، اب تمام براعظموں میں ظاہر ہو چکا ہے۔لوگوں نے حالیہ برسوں میں اس ویرینٹ کا زیادہ تجربہ نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ اس کے خلاف مدافعت کم ہو گئی ہے۔ ایچ تھری این ٹْو جو ایک موسمی فلو ہے اس کی ایک قسم میں سات میوٹیشنز ظاہر ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے اس تبدیل شدہ وائرس کی رپورٹس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر ڈیرک سمتھ نے بی بی سی کو بتایایہ تقریباً یقینی طور پر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ماہرین کے مطابق ایسا وائرس بہت عرصے بعد دیکھنے کو ملا ،یہ تبدیلی جسے ایچ تھری این ٹْو کا ’سب کلیڈ کے‘ کہا جاتا ہے، موسمی انفلوئنزا اے وائرس کی ایک قسم ہے، جس کا حالیہ برسوں میں لوگوں کو کم سامنا کرنا پڑا ہے۔ پروفیسر نکولا لوئس جو برطانیہ کے فرانسس کرک انسٹیٹیوٹ کے ورلڈ انفلوئنزا سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں، کہتی ہیں یہ مجھے واقعی فکر مند کرتا ہے، میں گھبرا نہیں رہی لیکن فکر مند ہوں،ہم نے کافی عرصے سے ایسا وائرس نہیں دیکھا۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر کرسٹوف فریزر نے بی بی سی کو بتایا اگر آپ نے رواں سال فلو کا ٹیکہ نہیں لگوایا تو آپ کو فلو ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے اور وائرس سے شدید بیمار ہونے کا امکان زیادہ ہوگا۔ برطانیہ ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کی فلو پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر سوزانا میکڈونلڈ کاکہناہے کہ فلو والے افراد کو گھر پر رہنا چاہیے، دوسروں سے فاصلہ رکھیں ،فیس ماسک بیماریوں کے پھیلائو کو روکنے میں مدد دے گا۔