شام میں مسلح افراد نے معزول صدر بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے مقبرے کو نذر آتش کر دیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ شامی علاقے قرداحہ میں پیش آیا، جہاں حافظ الاسد کا مقبرہ واقع ہے۔ مسلح افراد نے نہ صرف مقبرے کو آگ لگائی بلکہ اس دوران نعرے بھی لگائے۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری باغیانہ تحریک کے دوران، معزول صدر اور ان کے والد کے پوسٹرز اور مجسموں کو ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بشار الاسد کے حامیوں کا خوف ہے کہ انہیں انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حالیہ مہینوں میں باغیوں نے شام میں اسد خاندان کی 54 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا ہے، اور اس دوران کئی اہم شخصیات اور مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حافظ الاسد نے 1971 سے 2000 تک شام پر حکمرانی کی، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے بشار الاسد کو صدر بنایا گیا تھا۔ حافظ الاسد علوی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے، جو شام کی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں، اور ان کی حکومت کو علویوں کی حمایت حاصل تھی۔ اسد خاندان کی حکمرانی کو شام کے متعدد علاقوں میں علویوں کی سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ روم کے کنارے واقع صوبہ لتاکیا میں۔