انتخابات میں دھاندلی سے متعلق 3 درخواستیںعدم پیروی کی بناء پر خارج ‘ آئینی بینچ نے پنجاب حکومت کوبڑاریلیف دیتے ہوئے پنجاب میگاپراجیکٹس ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا

قانون  ہر فون ٹیپ کرنیکی اجازت نہیں دیتا آئینی بینچ

قانون کے مطابق تو فون ٹیپنگ کیلئے صرف جج اجازت دے سکتا ہے:جسٹس محمد علی مظہر‘ اس مقدمے کا اثر بہت سے زیر التوا ء￿ مقدمات پر بھی ہوگا، یہ معاملہ چیف جسٹس کے چیمبر سے شروع ہوا چیف جسٹس کہاں جائے گا:جسٹس جمال مندوخیل
 آئینی بینچ نے پی ٹی آئی کے بانی  کی عام انتخابات  میں دھاندلی کیخلاف درخواست پر سماعت موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی‘ مظاہر علی نقوی کی شوکاز نوٹس کیخلاف درخواست عدم پیروی پر  خارج

اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فون ٹیپنگ سے متعلق کیس میں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے  قانون ہر کسی کو ہر فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ قانون کے مطابق تو فون ٹیپنگ کے لیے صرف جج اجازت دے سکتا ہے ،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے کا اثر بہت سے زیر التوا ء￿ مقدمات پر بھی ہوگا، یہ معاملہ چیف جسٹس کے چیمبر سے شروع ہوا چیف جسٹس کہاں جائے گا۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے فون ٹیپنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 2013 سے قانون موجود ہے جس کے مطابق آئی ایس آئی اور آئی بی نوٹیفائیڈ ہیں، قانون میں فون ٹیپنگ کا طریقہ کار ہے اور عدالتی نگرانی بھی قانون میں ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے مطابق تو فون ٹیپنگ کے لیے صرف جج اجازت دے سکتا ہے، کیا کسی جج کو اس مقصد کے لیے نوٹیفائی کیا گیا ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فون ٹیپنگ کا قانون مبہم ہے۔ آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہمیں رپورٹس یا قانون میں دلچسپی نہیں بلکہ نتائج چاہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جج کی نامزدگی بارے مجھے علم نہیں۔دلائل کے بعد آئینی بینچ نے کیس پر ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی‘آئینی بینچ نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق 3 درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں ، درخواست گزار  قیوم خان ،محمود اختر نقوی اور میاں شبیر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ جبکہ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل حامدخان کیس کی سماعت بارے لاعلم نکلے دوسری جانب شیر افضل مروت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی گئی۔ آئینی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف  کے بانی چیئرمین عمران خان کی عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی‘ئینی بینچ نے مظاہر علی نقوی کی شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست خارج کر دی۔مظاہر علی نقوی کے وکیل سعد ہاشمی کا کہنا تھا میرا اپنے مکل سے رابطہ نہیں ہو سکا، عدالت موکل سے رابطے اور ہدایات کے لیے مہلت دے۔  جسٹس محمد علی مظہر کہنا تھا کیس میں کوئی نئی چیز نہیں ہے، شوکاز نوٹس کیخلاف کونسل کا تو فیصلہ آچکا ہے۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مظاہرعلی نقوی کی شوکاز نوٹس کیخلاف درخواست خارج کردی‘آئینی بنچ نے پنجاب حکومت کوبڑاریلیف دیتے ہوئے پنجاب میگاپراجیکٹس ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ان کمپنیوں کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا  کیا کسی کنٹریکٹر کیخلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہے؟ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی،اورنج ٹرین پر بھی الگ فیصلہ ا ?چکا ہے، سپریم کورٹ نے کہاکہ پنجاب حکومت کے مطابق تمام منصوبے مکمل ہو چکے ہیں،سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کے بیان پر ازخودکیس نمٹا رہے ہیں۔بعدازاں کیس نمٹادیاگیا