والدین بچوں کو اسمارٹ فونز کیوں دیتے ہیں؟ وجہ دریافت

والدین بچوں کو اسمارٹ فونز کیوں دیتے ہیں؟ وجہ دریافت

آج کل کے والدین کے لیے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز دیں تاکہ وہ مصروف رہیں یا پرسکون محسوس کریں۔
لیکن اس حوالے سے نئی تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اسمارٹ فونز کا زیادہ استعمال بچوں کی نشوونما اور صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔امریکا کی فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینٹر فار چلڈرن اینڈ فیملیز کی کی گئی تحقیق میں 4 سے 8 سال کی عمر کے بچوں کی پرورش کرنے والے 822 والدین شامل تھے۔ان والدین سے آن لائن سرویز کے ذریعے بچوں کے رویوں، والدین کے تناؤ، اور اسکرین ٹائم کے حوالے سے معلومات جمع کی گئیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ والدین زیادہ دیر تک اپنے بچوں کو اسمارٹ فونز استعمال کرنے دیتے ہیں جب بچے مشکل رویہ اپناتے ہیں یا غصہ کرتے ہیں۔محققین نے یہ بھی کہا کہ والدین کو اپنے تناؤ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد لینی چاہیے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے بچوں کی رہنمائی کرسکیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ والدین کو اسکرین ٹائم کی حدود وضع  چاہئیں اور بچوں کو ایسی عمر کے موافق مواد دکھانا چاہیے۔مزید یہ کہ، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ صحت مند اور مثبت وقت گزاریں تاکہ ایک بہتر اور خوشگوار ماحول قائم ہوسکے۔

اس حوالے سے دیگر تحقیقی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔جنوری 2026 میں کی گئی ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ آن لائن مواد اور بچوں کی نشوونما کے درمیان تعلق موجود ہے۔اسی طرح، اکتوبر 2024 میں جرنل بی ایم سی پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے دماغی صحت متاثر ہوتی ہے اور خاص طور پر 9 اور 10 سال کے بچوں میں ڈپریشن، انزائٹی، اور غصہ جیسی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ویڈیو چیٹنگ، ویڈیوز دیکھنا، اور ویڈیو گیمز کھیلنا اس خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں۔لہٰذا، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور صحت مند سرگرمیوں کو ترجیح دیں تاکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھا جا سکے۔