شدید گرمی،پانی کی کمی :گردوں کے مریض بڑھ گئے

ہفتے میں شہرکے 5بڑے ہسپتالوں میں 1550 سے زائد مریض رپورٹ
لاہور ( خصوصی رپورٹ)شدید گرمی اور پانی کی کمی پرلاہور سمیت پنجاب بھر میں گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ لاہور کے 5بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہفتے کے دوران گردوں میں درد اور پتھری کے 1550 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ میو ہسپتال میں 450، جناح ہسپتال میں 390، سروسز ہسپتال میں 350، جنرل ہسپتال میں 300جبکہ گنگا رام ہسپتال میں بھی 250 سے زائد کیسز سامنے آگئے ۔ اسسٹنٹ پروفیسر یورالوجی پروفیسر ڈاکٹر شبیر چودھری کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہائی رسک افراد میں تقریباً ہر چار میں سے ایک شخص گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا ہے۔ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر گردوں کے دائمی مرض کی بڑی وجوہات ہیں۔ لاہور میں ابتک گردوں کی پیوند کاری کے 3 ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی اورپیشاب گاڑھا ہو جاتا ہے۔ پانی کی کمی پرپیشاب میں کیلشیم، آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے گردوں میں پتھری بننے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے گرم موسم میں گردوں کی پتھری کے مریض مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شدید گرمی میں باہر کام کرنیوالے افراد اور کم پانی پینے والوں کو احتیاط برتنی چاہئے۔ گرمی میں مناسب مقدار میں پانی پئیں اور ڈی ہائیڈریشن سے بچیں۔ کمر یا پہلو میں شدید درد، پیشاب میں جلن یا خون آئے تو فوراً طبی معائنہ کروایا جائے