خواتین کی ہلاکت پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

 رپورٹ میں تشدد کے شواہد نہ ملے ، سی سی پی او نے بھی تصدیق کردی 
 لاہور(کرائم رپورٹر) ٹاؤن شپ پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والی دو خواتین انمول اور آمنہ کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹس سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں خواتین پر دورانِ حراست تشدد کے شواہد نہیں ملے اور جسم پر تشدد کا کوئی نشان بھی موجود نہیں تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں خواتین کے پھیپھڑوں پر سیاہ دھبے پائے گئے، جبکہ ان کے دل کلاٹس سے بھرے ہوئے تھے۔ دونوں کے جگر، گردے اور معدے مکمل طور پر صحت مند پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کا پوسٹ مارٹم ہلاکت کے دو روز بعد کیا گیا۔ حتمی وجوہاتِ موت جاننے کے لیے خون اور جسمانی اعضاء￿  کے نمونے ہسٹوپتھالوجی ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم بورڈ کے تمام ارکان کی حتمی رائے کے بعد رپورٹس مکمل کی گئیں۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ٹاؤن شپ میں دو خواتین کی ہلاکت کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے حوالے سے میڈیا پر مختلف معلومات چل رہی ہیں، پریس کانفرنس کا مقصد حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے مطابق ٹاؤن شپ کا واقعہ 4 اگست کو پیش آیا۔ 2 بج کر 52 منٹ پر نوسربازی کی اطلاع پر کال موصول ہوئی، پولیس 3 بج کر 11 منٹ پر موقع پر پہنچی، جہاں عوام نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کیا۔ 3 بج کر 26 منٹ پر خواتین کو تھانے منتقل کیا گیا، جبکہ 4 بج کر 39 منٹ پر مدعی نے پولیس کو درخواست دی اور 4 بج کر 50 منٹ پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد کیس انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ 5 بج کر 30 منٹ پر دونوں خواتین انویسٹی گیشن پولیس کے محرر کے پاس موجود تھیں، جہاں 5 بج کر 45 منٹ پر وقفے وقفے سے دونوں کی طبیعت خراب ہوئی۔ شام 7 بجے ریسکیو 1122 دونوں خواتین کو جناح ہسپتال لے کر پہنچی، جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے مطابق دونوں خواتین کی شناخت اور ٹریسنگ کا عمل مکمل کیا گیا، تاہم شناختی کارڈ موجود نہ ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم کے عمل میں تاخیر ہوئی۔