راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل کیس کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے چہرے، گردن، بازوو ں اور ہاتھوں پر تشدد اور گہرے زخموں کے نشانات تھے، ہونٹ پھٹے ہوئے تھے اور جسم پر نیل موجود تھے۔ سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر طویل گہرا زخم اور گردن ٹوٹی ہوئی پائی گئی؛ دونوں کہنیوں میں سکرو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں پھیپھڑوں اور دل کے گرد موجود پیراکارڈیم میں خون جمع ہونے کا ذکر بھی ہے۔ حنا جاوید کو 20 اگست کو سسرال میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا اور لاش باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکائی گئی تھی۔ مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج ہے؛ نامزد شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔