بعض خاندان حالات سے نمٹنے کیلئے قرض لینے یا اپنی پیداواری جائیداد و اثاثے فروخت کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں:ورلڈ بینک
اسلام آباد(آئی این پی )عالمی بینک نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کیلئے اربوں روپے کے ایک رہائشی پروگرام کے فنڈز کو انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف منتقل کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں غربت مزید بڑھ سکتی ہے۔میڈیارپور ٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کو بھیجے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں کہا ہے کہ اہل خاندانوں کی سماجی و معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خطرہ صرف یہ نہیں کہ یہ خاندان رہائشی امداد سے محروم رہ جائیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کی پہلے سے موجود کمزوریاں ایک دوسرے کو مزید تقویت دیں گی اور وقت کے ساتھ حالات مزید خراب ہوں گے۔ورلڈ بینک کے مطابق محدود وسائل رکھنے والے خاندان خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پر خرچ ہونے والی آمدن کو عارضی رہائش کی مسلسل مرمت پر خرچ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، بعض خاندان حالات سے نمٹنے کے لئے قرض لینے یا اپنی پیداواری جائیداد و اثاثے فروخت کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔اسی طرح جو خاندان مضبوط اور قدرتی آفات سے محفوظ گھر دوبارہ تعمیر نہیں کر سکیں گے، وہ تباہ شدہ یا غیر محفوظ گھروں میں رہنے پر مجبور رہیں گے