ثناء کوثر
ایک بچی نے اپنی ماں سے پوچھا:’’امی! آپ نے مجھے اتنا پڑھایا کیوں ہے؟‘‘ماں نے مسکرا کر جواب دیا:’’تاکہ کل جب تمہارے بچے تم سے کوئی سوال کریں تو تمہارے پاس صرف جواب نہ ہو… دلیل بھی ہو۔‘‘یہ ایک چھوٹا سا مکالمہ ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری قوم کا مستقبل چھپا ہوا ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ تعلیم انسان کو بدل دیتی ہے۔ لیکن شاید ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر تعلیم ایک عورت کو بدل دے تو اس کا اثر صرف ایک زندگی پر نہیں رہتا؛ وہ اثر اگلی نسل تک جاتا ہے۔ایک عورت جب کتاب پڑھتی ہے تو شاید صرف ایک صفحہ بدلتا ہے، لیکن جب وہی عورت ماں بنتی ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک پوری نسل کی تربیت آ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک سوال یہ نہیں ہونا چاہیے لڑکی کو اتنا پڑھا کر کیا فائدہ ہوگا؟
اصل سوال یہ ہے ٓگر لڑکی کو تعلیم نہیں دی جائے گی تو آنے والی نسل کو کون تعلیم دے گا؟تصور کریں ایک بچی کو اسکول بھیجا جاتا ہے۔
وہ پڑھتی ہے، سوال کرنا سیکھتی ہے، دنیا کو سمجھتی ہے، اپنے حقوق اور فرائض سے واقف ہوتی ہے۔ برسوں بعد وہی بچی ماں بنتی ہے۔اب اس کے سامنے ایک اور بچہ ہے۔وہ بچے کو صرف الفاظ نہیں سکھاتی؛ وہ اسے سوچنا سکھاتی ہے۔وہ اسے کہتی ہے‘"ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں کرنا۔غلط کام صرف اس لیے درست نہیں ہو جاتا کہ سب لوگ کر رہے ہیں۔کسی کمزور کا مذاق نہیں اڑانا۔ٓور بیٹا، اپنی بہن کو بھی وہی مواقع دینا جو تمہیں ملے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے:تعلیم یافتہ عورت صرف ایک فرد نہیں رہتی؛ وہ ایک چلتی پھرتی درس گاہ بن جاتی ہے۔
اسلام میں علم: صرف مرد کا حق نہیں‘رسول اللہ نے فرمایا:یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اسلامی تاریخ میں حضرت عائشہ اس کی شاندار مثال ہیں۔ وہ صرف رسول اللہ کی زوجہ نہیں تھیں بلکہ علم و فقہ کا ایک بڑا علمی مرکز تھیں۔ بڑے بڑے صحا بہ کرام ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ذرا سوچیں!ایک عورت علم حاصل کرتی ہے، پھر وہ علم آگے منتقل کرتی ہے، اور اس علم سے پورا معاشرہ فائدہ اٹھاتا ہے۔تو پھر آج ہم اپنی بیٹی کے ہاتھ سے کتاب کیوں چھینیں؟ایک سوال جو ہر والدین کو خود سے پوچھنا چاہییجب بیٹا امتحان میں کم نمبر لے تو ہم کہتے ہیں:کوئی بات نہیں، اگلی بار محنت کرنا۔لیکن اگر بیٹی کہے"میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں۔"تو بعض گھروں میں فوراً سوال اٹھتا ہے:اتنا پڑھ کر کیا کرنا ہے؟یہ سوال شاید ہمیں دوبارہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔بیٹی کی تعلیم صرف اس لیے ضروری نہیں کہ وہ ڈاکٹر، وکیل، استاد یا افسر بنے۔وہ تعلیم یافتہ اس لیے بھی ہونی چاہیے کہ اگر زندگی کبھی اس کے سامنے کوئی مشکل فیصلہ رکھ دے تو وہ خوف کے بجائے علم اور شعور سے فیصلہ کرے۔
تعلیم یافتہ ماں، خاموش انقلابانقلاب ہمیشہ سڑکوں پر نعرے لگا کر نہیں آتا۔کبھی انقلاب ایک ماں کے کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے۔وہ ماں جو اپنے بیٹے کو عورت کی عزت سکھاتی ہے۔وہ ماں جو اپنی بیٹی کو کہتی ہے:تم کمزور نہیں ہو، تمہیں اپنے علم پر یقین ہونا چاہیے۔وہ ماں جو اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے برداشت سکھاتی ہے۔وہ ماں جو انہیں جھوٹ، دھوکے اور ناانصافی سے بچنے کی تربیت دیتی ہے۔یہ انقلاب اخبار کی شہ سرخی نہیں بنتا، مگر قوم کے کردار میں ضرور نظر آتا ہے۔
حضرت عائشہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عورت علم حاصل کر کے علم کی امین بھی بن سکتی ہے۔آج کی طالبہ کے پاس یونیورسٹی، کتابیں، انٹرنیٹ، تحقیق اور بے شمار تعلیمی ذرائع موجود ہیں۔لیکن اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ اس کے پاس ڈگری ہو۔اصل کامیابی تب ہے جب اس کی تعلیم اس کے سوچنے کے انداز، کردار اور فیصلوں میں نظر آئے۔کیونکہ معاشرے کو صرف ڈگری یافتہ خواتین نہیں چاہئیں؛معاشرے کو باشعور خواتین چاہئیں۔سوشل میڈیا کے دور میں تعلیم کیوں زیادہ ضروری ہے؟آج ایک موبائل فون پوری دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لے آیا ہے۔
ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ایک غلط مشورہ کسی کی زندگی متاثر کر سکتا ہے۔
ایک جعلی ویڈیو لوگوں کی رائے بدل سکتی ہے۔ایسے دور میں تعلیم یافتہ عورت اپنے گھر کی پہلی information filter
بن سکتی ہے۔وہ اپنے بچوں کو سکھا سکتی ہے کہ ہر وائرل چیز سچ نہیں ہوتی، ہر خوبصورت بات درست نہیں ہوتی اور ہر مشہور شخص قابلِ تقلید نہیں ہوتا۔یہ بھی تعلیم ہی کا ایک نیا روپ ہے‘کتاب پڑھنے کے ساتھ معلومات کو پرکھنا سیکھنا۔بیٹی کو صرف جہیز نہیں، فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیں‘ہم بیٹی کی شادی کے لیے سالوں تیاری کرتے ہیں۔کپڑے، زیورات، فرنیچر، برتن اور بہت کچھ جمع کرتے ہیں۔
لیکن ایک سوال:کیا ہم نے اسے زندگی کے فیصلوں کے لیے تیار کیا؟کیا اسے معلوم ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟کیا وہ اپنے بچوں کی صحت اور تعلیم کے بارے میں درست فیصلے کر سکتی ہے؟کیا وہ مشکل وقت میں مسئلے کا حل تلاش کر سکتی ہے؟کیا وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صحیح اور غلط میں فرق کر سکتی ہے؟اگر جواب "ہاں" ہے تو پھر ہم نے اسے صرف سامان نہیں دیا؛
ہم نے اسے زندگی گزارنے کا ہنر دیا ہے۔
رسول اللہ نے بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اچھی پرورش کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔احادیث میں بیٹیوں کی اچھی تربیت، ان کے ساتھ محبت اور ذمہ داری نبھانے کو اجر کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔یہ تصور ہی ہمارے معاشرتی رویوں کو بدلنے کے لیے کافی ہے۔
بیٹی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اگر ہم اسے امانت، ذمہ داری اور مستقبل کی معمار سمجھیں تو ہمارے گھروں کی سوچ بدل سکتی ہے۔قومیں سرحدوں سے نہیں، نسلوں سے بنتی ہیںہم مضبوط قوم کی بات کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے، ہمارے ادارے مضبوط ہوں، ہمارے نوجوان کامیاب ہوں اور معاشرہ امن و انصاف کا گہوارہ بنے۔لیکن ہر کامیاب نوجوان کبھی ایک بچہ تھا۔اور اس بچے کی پہلی دنیا اس کا گھر تھا۔اس گھر میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والی شخصیت اکثر اس کی ماں ہوتی ہے۔اس لیے اگر ہمیں قوم بدلنی ہے تو صرف سڑکیں نہیں، سوچیں بنانی ہوں گی۔اور سوچ بنانے کے لیے عورت کو تعلیم دینی ہوگی۔
آخری سوالکل جب ہماری بیٹی ماں بنے گی تو وہ اپنے بچے کو کیا دے گی؟صرف ایک اچھا لباس؟صرف ایک مہنگا اسکول؟صرف ایک جدید موبائل؟یا پھر…سوچنے کی صلاحیت، سوال کرنے کا حوصلہ، صحیح اور غلط میں فرق کرنے کا شعور، دین و دنیا کا علم اور اچھے کردار کی بنیاد؟یہ فیصلہ آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ:ہم آج صرف ایک لڑکی کو تعلیم نہیں دے رہے ہوتے، ہم کل کے ایک گھر کو تعلیم دے رہے ہوتے ہیں۔اور جب ہزاروں گھر تعلیم یافتہ ہو جائیں تو قوم کو مضبوط ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اس لیے بیٹی کو صرف پڑھائیں نہیں—اسے سوچنا سکھائیں۔صرف ڈگری نہ دیں‘اسے شعور دیں۔صرف مستقبل کا خواب نہ دکھائیں‘اسے مستقبل بنانے کے قابل بنائیں۔کیونکہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک شخص نہیں، ایک پوری نسل کی استاد ہوتی ہے۔