واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کا براہِ راست کنٹرول، 800 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات

واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کا براہِ راست کنٹرول، 800 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں 800 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات کرتے ہوئے شہر کی میٹروپولیٹن پولیس کا کنٹرول براہِ راست وفاقی حکومت کے ماتحت کر دیا۔

 یہ فیصلہ مقامی منتخب قیادت کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا گیا، جسے امریکی سیاست میں غیر معمولی اور متنازع قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام "جرائم کی لہر" کو روکنے کے لیے ضروری تھا، تاہم سرکاری اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔ ڈیٹا کے مطابق 2024 میں شہر میں جرائم کی شرح 35 فیصد اور 2025 کے پہلے سات ماہ میں مزید 26 فیصد کم ہوئی۔ڈیموکریٹک میئر موریل باؤزر اور دیگر رہنماؤں نے اس فیصلے کو غیر قانونی اور غیر ضروری قرار دیا۔ شہر کے اٹارنی جنرل برائن شواب نے کہا کہ اس کے خلاف تمام قانونی راستے اپنائے جائیں گے۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو شکاگو سمیت دیگر ڈیموکریٹک شہروں میں بھی اسی طرز کا اقدام کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل جون میں انہوں نے لاس اینجلس میں 5,000 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات کیے تھے، جس پر مقامی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ واشنگٹن کی مقامی خودمختاری ختم کرنے اور مکمل وفاقی کنٹرول نافذ کرنے کی قانونی راہیں تلاش کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔