شوگر سیکٹر نے حکومت کو چینی کی پیداوار سے متعلق غلط اعداد و شمار دئیے کمپٹیشن کمیشن

حکومت نے غلط تخمینوں کی بنیاد پر چینی  برآمد کرنے کی اجازت دی جس سے بحران پیدا ہوا  اور سٹاک کم پڑ گئے:وفاقی وزیر خزانہ کو اجلاس میں بریفنگ
 شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا،کمپٹیشن کمیشن  کا کردار بڑھ جائے گا‘  تحقیقات میں معاونت کیلئے اداروں سے ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا:وزیر خزانہ
اسلام آباد(آئی  این پی )کمپٹیشن کمیشن  آف پاکستان  نے بتایا ہے  شوگر سیکٹر نے حکومت کو چینی کی پیداوار سے متعلق غلط اعداد و شمار دئیے اور حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت دی جس سے بحران پیدا ہوا۔ تفصیل کے  مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمپٹیشن کمیشن سے شوگر سیکٹر کے مسائل پر بریفنگ حاصل کی، چئیرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے چینی کارٹل کے کمیشن کے اقدامات سے انہیں آگاہ کیا۔ڈاکٹر کبیر نے وزیر خزانہ کو چینی کے حالیہ بحران کی وجوہات سے آگاہ کیا اور بتایا  چینی کی ایکسپورٹ سے ملک میں چینی کے اسٹاک ضرورت سے کم ہوگئے، شوگر ایڈوائزی بورڈ نے گزشتہ سال جون سے اکتوبر  کے دوران گنے کی پیداوار، دستیاب  سٹاک اور چینی کی پروڈکشن کے بارے میں جو تخمینہ حکومت کو فراہم کیے وہ درست نہیں تھے۔کمپیٹیشن کمیشن نے بتایا کہ غلط تخمینوں کی بنیاد پر حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت دے دی جس سے سٹاک کم ہوگئے، فیصلہ سازی شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، فیصلہ سازی کے لیے انڈیپینڈنٹ اور شفاف ڈیٹا حاصل کیا جائے۔۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا  حکومت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی جلد سماعت کے لئے کمپٹیشن کمیشن کی معاونت کرے گی، کمپٹیشن کمیشن کو مزید مستحکم کیا جائے گا، شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا، سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے بعد کمیٹیشن کمیشن کا کردار بڑھ جائے گا، تحقیقات میں معاونت کے لئے دیگر اداروں سے ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔