پنجاب کے جنوبی علاقوں میں دریاؤں ستلج، راوی اور چناب میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں کے باعث ملتان، مظفرگڑھ، لیاقت پور اور رحیم یار خان میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ملتان کے قریب بستی بہاران میں سرکاری حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جبکہ اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کے نتیجے میں مشرقی علاقوں جیسے جھنبوں، نوراجہ بھٹہ، کوٹلہ اور بہادرپور بری طرح متاثر ہوئے۔ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے، جہاں اس وقت 6 لاکھ 7 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔علی پور میں تقریباً 70 فیصد علاقہ زیر آب آ چکا ہے، جبکہ قبولہ کے نواح میں فرید شاہ کا علاقہ مکمل طور پر ڈوب چکا ہے۔لودھراں کے اکبر شاہ کے علاقے میں دو ہزار سے زائد گھر زیر آب ہیں اور کپاس، چاول، مکئی اور تل کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں خوراک اور پانی کی شدید قلت ہے، اور بے گھر افراد خود ساختہ کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔
ڈیمز اور پانی کی صورتحال:
تربیلا ڈیم اپنی مکمل گنجائش 1,550 فٹ تک پہنچ گیا، راول ڈیم تقریباً 1,752 فٹ، منگلا ڈیم 92 فیصد بھر چکا اور سملی ڈیم مکمل گنجائش پر ہے۔تمام بڑے ڈیمز کے سپل ویز کھول دیے گئے ہیں تاکہ اضافی پانی خارج کیا جا سکے۔دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 6 لاکھ 68 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے، اور یہ ریلا سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انسانی جانوں اور امدادی کارروائیاں:
کھاریاں کے علاقے ڈنگہ میں دو بھائی نالے میں ڈوب گئے، 14 سالہ زینر کو بچا لیا گیا جبکہ 12 سالہ شاہ زین کی تلاش جاری ہے۔رحیم یار خان میں ہزاروں افراد کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انسانی جانوں، مویشیوں اور مالی نقصانات سے بچاؤ ان کی اولین ترجیح ہے۔