پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان پر ملک میں دہشت گردی کو دوبارہ فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے ہونا چاہیے۔
اپنے سخت ردِعمل میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی، نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، اور پوری قوم کو ایک بیانیے پر متحد کیا گیا، لیکن عمران خان نے اس پالیسی کی خلاف ورزی کر کے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ پناہ اور پشت پناہی ملی، اور یہ عمل عمران خان کی حکومت کے دوران ہوا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا:“آج دہشت گردی سے شہید ہونے والے ہر پاکستانی کے لہو کا حساب عمران خان کو دینا ہوگا، کیونکہ دہشت گردوں کو واپس لانے والا مجرم وہ خود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے اپنے پختہ عزم اور ہمت سے دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن شروع کیا اور پاکستان کو محفوظ بنایا، جبکہ عمران خان نے ان ہی دہشت گردوں کو پناہ، رہائش اور مالی مدد فراہم کی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی افواج، پولیس، رینجرز اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں، لیکن عمران خان نے ان قربانیوں کی توہین کرتے ہوئے دہشت گردوں کا ساتھ دیا۔انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کی شروعات ان سہولت کاروں سے کی جائے جنہوں نے ملک میں شدت پسندی کے بیج دوبارہ بوئے۔