خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمٰن

خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمٰن

جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمن کی لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اہم تقریر اور موقف کا اظہار ہے۔

 انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے اور اسے اصل شکل میں بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا خطاب اور موقف:

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کو بگاڑ رہی ہے اور ہم انشاءاللہ اسے اصل شکل میں بحال کریں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اور جماعت اسلامی ہمیشہ آئین کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، چاہے 26 ویں آئینی ترمیم کے دوران یا اب بھی۔انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کا عہدہ ختم کرکے اب چیف جسٹس سپریم کورٹ بنا دیا گیا ہے، اور اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیراعظم منتخب کریں گے، جو کہ آئین اور عدلیہ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں حکومت کی اکثریت ہے، اور یہ آئین و اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئین پاکستان کو اصل اور حقیقی صورت میں بحال کیا جائے، اور تمام خلفائے راشدین عدالتوں میں پیش ہوتے تھے، جس کا ذکر آئین میں بھی ہے۔
مجموعی پیغام:

حافظ نعیم الرحمن نے موجودہ حکومتی اقدامات کو آئین کے خلاف قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ آئین کی اصل شکل بحال کرنے کے لیے آواز بلند کریں، تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو سکے۔