2باغی ،ایک مستعفی ٰ دوسرا پارٹی سے فارغ
میری اہلیہ کی گرفتاری کے وقت میری پارٹی نے آواز بلند نہیں کی، ، سینیٹر شپ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں:سیف اللہ ابڑو،احمد علی مستعفی ہوں، ورنہ الیکشن کمیشن سے رجوع کرینگے، جے یو آئی نے پارٹی سے نکال دیا
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ جبکہ جمعیت علما اسلام نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا۔ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ میری اہلیہ کی گرفتاری کے وقت میری پارٹی نے آواز بلند نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو یہی کام بیرسٹر علی ظفر بھی کریں گے۔سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ میں نیفوج کی وجہ سے ووٹ دیا۔ادھر تحریک انصاف نے سیف اللہ ابڑو کو پارلیمانی پارٹی وٹس ایپ گروپ سے نکال دیا۔ سیف اللہ ابڑو کو دیگر تمام گروپس سے بھی نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاک بھارت جنگ میں ہمیں جو فتح حاصل ہوئی وہ قابل فخر ہے، سینیٹر شپ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پوری دنیا نے عزت دی، بھارت کو ہماری مسلح افواج نے جو شکست دی اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئیتحریک انصاف کی سینیٹر مشعال یوسف زئی نے کہا ہے کہاکہ سیف اللہ ابڑو نے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر عمران خان سے غداری کی۔ادھر جمعیت علمائے اسلام نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں حکومتی بل کو سپورٹ کرنے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے خارج کر دیا ہے۔یہ فیصلہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور صوبائی امیر بلوچستان سینیٹر مولانا عبد الواسع کی سفارش پر کیا گیا۔مرکزی جماعت نے فوری طور پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوں، ورنہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان سینیٹ میں ان کی نااہل قرار دلانے کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کرے گی۔