عمران سے آفریدی کی ملاقات نہ کروانے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر

جنید اکبر کے وارنٹ منسوخ، 22 دسمبر تک 5 ہزار کے مچلکوں پر ضمانت منظور 
 پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مظاہروں کے مقدمات کی سماعت ملتوی 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات نہ کروانے پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ۔ درخواست وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت فراہم نہیں کی گئی جو کہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست میں وفاق ، اڈیالہ جیل انتظامیہ، پنجاب حکومت اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے 22 دسمبر تک 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔ گزشتہ روز جنید اکبر انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف 26 نومبر ، آزادی مارچ اور دیگر احتجاجی مظاہروں کے مقدمات کی سماعتیں ملتوی کر دیں۔ تمام مقدمات کی سماعتیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیں۔ بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث عدالت نے مختصر سماعت کے بعد کیس کو یکم دسمبر تک ملتوی کر دیا۔ اسی طرح بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے بعد فیض آباد میں ہونے والے احتجاج کے مقدمے میں مزید گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران غیر حاضر کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔