صوبائی کابینہ کا حجم اسمبلی کے 15 فیصد سے زائد نہیں ہوگا‘صوبائی مشیروں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کر دی گئی
آرٹیکل 239 میں ترمیم کے مطابق آئین میں کی گئی کسی ترمیم پر کسی بنیاد پر کسی عدالت کو سوال اٹھانے کا اختیار نہیں ہو گا
اسلام آباد(آن لائن)سینٹ سے منظور 27ویں آئینی ترمیمی بل کے مندرجات سامنے آگئے ہیں جن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 105 میں ترمیم کر دی گئی، گورنر صوبائی نگران کابینہ کی تشکیل آرٹیکل 224 یا 224 اے کے تحت کرے گا۔ آئین کے آرٹیکل 130 میں ترمیم کے تحت صوبائی کابینہ کا حجم اسمبلی کے 15 فیصد سے زائد نہیں ہوگا۔ صوبائی مشیروں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کر دی گئی۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق ترامیم منظورکر لی گئی ۔ آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی۔ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز کمیشن کے ممبر ہوں گے۔ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ایک ایک سینیئر ترین جج کمیشن کے ممبر ہوں گے۔ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز کا مشترکہ نامزد کردہ آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج دو سال کے لیے کمیشن کا ممبر ہوگا بصورت دیگر دونوں چیف جسٹسز کے نامزد کردہ ججز کے نام کمیشن کے سامنے رکھے جائیں گے جس میں کثرت رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے نامزد کردہ خاتون، غیر مسلم یا ٹیکنوکریٹ ممبر کے لیے دو سال کی شرط ختم کر دی گئی۔وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سینیئر جج جوڈیشل کمیشن کا سربراہ ہوگا۔ بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ نامزد ہونے والے جج کی جانب سے انکار پر اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر مملکت، وزیراعظم کی ایڈوائس پر سپریم کورٹ کے ججز میں سے کریں گے۔وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججز کا تقرر صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر چیف جسٹس آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔