مہنگا پٹرول --غریب کھائیں کہاں سے؟

رمشا بتول
پیٹرول پمپ پر لگی پرچی جب بھی بدلتی ہے، غریب کے چولہے کی آگ پہلے مدھم پڑتی ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا تعلق صرف گاڑی کے ٹینک سے نہیں، غریب آدمی کی روٹی سے جڑا ہوا ہے۔جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو گندم کی کٹائی، ٹریکٹر کا کرایہ، اور آٹا مل تک پہنچانے کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ نتیجہ؟ 20 روپے والی روٹی 30 کی ہو گئی۔ مزدور جو دن بھر میں 800 کماتا ہے، اس کی دیہاڑی کا آدھا صرف کھانے میں نکل جاتا ہے۔سبزی، دال، چینی: منڈی سے ریڑھی تک ہر چیز ٹرک پر آتی ہے۔ کرایہ بڑھا تو ٹماٹر 200، پیاز 150 کا ہو گیا۔ غریب کے سالن سے اب گوشت نہیں، سبزی بھی نکلتی جا رہی ہے۔ فرنس آئل مہنگا ہوا تو بجلی کی فی یونٹ قیمت آسمان پر۔ پنکھا چلائے تو بل کی فکر، نہ چلائے تو بچے گرمی سے بلکتے ہیں۔ غریب کے لیے دونوں طرف موت ہے۔ چھوٹا دکاندار‘ رکشے والا، سوزوکی والا، ڈلیوری بوائے۔ پیٹرول 300 کا لیٹر ہوا تو کرایہ بڑھانا مجبوری۔ سواری کم ہو گئیں، کمائی آدھی رہ گئی۔ کئی رکشے اب گھر کھڑے ہیں۔جنریٹر ڈیزل پر چلتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ میں پروڈکشن کا خرچ دگنا۔ آرڈر پورے نہ ہوں تو باہر کا خریدار بھاگ جاتا ہے۔ فیکٹری بند ہو تو مزدور کی نوکری بھی گئی۔ٹرانسپورٹ مہنگا ‘ خام مال مہنگا  ہر چیز مہنگی ‘ خریدار کم  کاروبار ٹھپ۔ یہ وہ چکر ہے جس نے لاکھوں کاروبار نگل لیے۔
پہلے ماں بچے سے کہتی تھی "پیٹ بھر کر کھا لو"۔ اب پوچھتی ہے "آج کھانا بھی کھاؤ گے؟"۔ دیہاڑی دار شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے تو بیوی کی آنکھوں میں سوال ہوتا ہے، بچوں کے چہرے پر حسرت۔ پیٹرول کی قیمت صرف ہندسہ نہیں، یہ ماں کی دعا، باپ کی مجبوری، اور بچے کے ادھورے خواب کا ماتم ہے۔ جب پالیسی بنانے والے AC کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے کروڑوں چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ غریب کے لیے ٹرانسپورٹ، آٹا، بجلی پر سبسڈی دے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب مزدور پیٹرول پمپ پر نہیں، خودکشی کے پھندے پر لٹکا ہوا ملے گا۔کیونکہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور خالی پیٹ کا کوئی صبر نہیں ہوتا۔