فوزیہ غنی
کائنات کے ماتھے پر اگر سب سے خوبصورت لفظ تلاش کیا جائے، تو وہ بلا شبہ "ماں" ہے۔ یہ صرف تین حرفی لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کائنات ہے جس کی وسعت کو ماپنا ناممکن ہے۔ آج جب دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تو دل کی گہرائیوں سے صرف ایک ہی احساس ابھرتا ہے کہ ماں کی ہستی وہ تناور درخت ہے جس کی چھاؤں کبھی ختم نہیں ہوتی اور جس کے سائے میں تھکا ہارا انسان ابدی سکون پاتا ہے۔مجھے اج بھی وہ وقت یاد ہے کہ جب میری ماں کے ہی راتوں تک سوتی نہیں تھی میں ان کو کہتی تھی کہ امی اپ سو جائیں تو مجھے کہتی ہیں کہ نہیں بیٹا صبح تمہارے پیپر ہیں تم رات جاگ رہی ہو کیا پتہ تمہیں کس وقت بھوک لگ جائے تمہیں چائے کی طلب ہو جائے میری بیٹی تو بہت بہادر ہے‘میں اور ابو اکثر امی کو بہت تنگ کرتے تھے ان کے ساتھ بڑا مذاق کرتے تھے میری امی کو 100 کے نوٹ نہیں گننا اتے تھے تو ابو ان کو جان بوجھ کے دے دیتے تھے کہ چلو یہ پیسے گن کے بتاؤ کہ کتنے ہیں تو ان کو گنتی نہیں اتی تھی وہ سو کا نوٹ نہیں گن سکتی تھی تو ہم لوگ میں اور ابو بعد میں بہت ہنستے تھے اور ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ صبح سکول جانا تھا تو ہمارے گھر میں جو وال کلاک تھا اس پہ امی کو ٹائم نہیں دیکھنا اتا تھا تو ہم پوچھتے تھے اپنی ٹائم کیا ہوا ہے تو کہتی ہیں مجھے ٹائم نہیں اتا بڑی سوئی دو پہ ہے چھوٹی سوئی جو ہے وہ چھ پہ ہے تو مطلب اس طرح سے ہمیں ہوتا تھا کہ اچھا اپ کو ٹائم بھی نہیں دیکھنا اتا تو ہم لوگ ہنس پڑتے تھے ہماری زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھی جو پتہ نہیں کہاں چلی گئی مال کم تھا لیکن سکون تھا اسائش نہیں تھی لیکن اطمینان تھا۔مجھے اج بھی یاد ہے کہ مجھے امی سے زندگی میں بس ایک بار تھپڑ پڑا وہ بھی اس بات پر کہ میری والدہ میک اپ نہیں کرتی تھیں تو ہمارے ہمسائے میں ایک خاتون تھیں خالہ بے بی جن کو میں خالہ کہتی تھی تو وہ کی شادی میں جا رہی تھی تو انہوں نے لپسٹک لگائی تو میں نے کہا خالہ مجھے بھی لگائیں میں چونکہ بچی تھی وہ چھوٹی تھی لگ بھگ سات اٹھ سال کی تو وہ لگا کے میں ویسے ہی امی کے پاس اگئی امی نے جب مجھے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ کیا ہے ان کا امی خالہ بیبی لگا رہی ہوں کیونکہ میں نے بھی لگا لی اس وقت جو امی کا زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پہ ایا تب سے لے کر اپنی شادی تک میں نے کبھی بھی لپ اسٹک نہیں لگائی۔ میرے منہ پہ اپنا ہاتھ صاف کرنے کے بعد امی نے مجھے بڑے پیار سے سمجھایا کہ بیٹا میں خود بھی میک اپ اس لیے نہیں کرتی کہ اگر میں کروں گی تو تم بھی کرو گی اس لیے میں چاہتی ہوں کہ اپ صرف اور صرف اپنی پڑھائی پہ توجہ دو۔
ماں کا رشتہ کسی تعریف یا تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ وہ ہستی ہے جو خود تپتی دھوپ میں جلتی ہے لیکن اپنی اولاد کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فراہم کرتی ہے۔ بچپن کی پہلی لرزش سے لے کر جوانی کی دہلیز تک، ماں کا ہاتھ ہمیشہ سہارا بن کر ساتھ رہتا ہے۔ وہ اپنی نیندیں قربان کر کے ہمیں میٹھے خواب دیتی ہے اور اپنی بھوک مار کر ہمارے لیے دسترخوان سجاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ماں کی قربانی کا قرض ہم اپنی سات زندگیوں میں بھی نہیں اتار سکتے۔
مائیں تو سب کی سادہ ہوتی ہیں لیکن شاید اپنی ماں سے زیادہ پیاری لگتی ہے وہ شاید اپنی زندگی کی بچوں کی زندگی میں انے والی وہ ملکہ ہوتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔۔ مجھے اج بھی یاد ہے کہ میں نے جب سمجھداری کی دہلیز پر پہلا قدم رکھا تب سے لے کر امی کی اخری سانس تک میں نے کوئی رات ایسی نہیں دیکھی جب پوری پوری رات میری امی عبادت نہ کرتی ہوں۔ اور میری ماں کی دعائیں اج بھی میرے ساتھ ہیں اج بھی میرا پیچھا کرتے ہیں اج بھی مجھے ڈر لگتا ہے تو وہ دعائیں میری ڈھال بن جاتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب ماں ہاتھ اٹھاتی ہے تو عرشِ الٰہی بھی جھوم اٹھتا ہے۔ ماں کی دعا ایک ایسی ڈھال ہے جو بلاؤں کو ٹال دیتی ہے اور ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ ہم چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں، کتنے ہی کامیاب کیوں نہ بن جائیں، ماں کی نظر میں ہم ہمیشہ وہی چھوٹے بچے رہتے ہیں جسے ہر قدم پر رہنمائی اور دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر سے نکلتے وقت اس کی پیشانی کا بوسہ اور اس کی زبان سے نکلا ہوا "فی امان اللہ" دنیا کی ہر مشکل سے بچانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھتی تھی کہ شاید دنیا کی سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن نہیں ماں صرف اپنے بچوں کے لیے سوچتی ہے لیکن میری ماں کی سب سے بڑی برائی اس ایت خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی اولاد کے لیے جیسا سوچتی تھی ویسے ہی دوسروں کے بچوں کے لیے بھی ان کے دل میں اتنا ہی درد تھا اتنی ہی ممتا تھی۔۔۔ کاش اج کی عورت ویسے ہی ماں بن جائے کہ جیسے وہ اپنے بچوں کے لیے سایہ چاہتی ہے ویسے ہی وہ دوسروں کے بچوں کو بھی سایہ فراہم کرے تاکہ اللہ تعالی اس کے بچوں کے لیے بھی اسانی پیدا کریں۔۔ماں کی قدر ان سے پوچھیں جن کے سروں پر یہ سایہ سلامت نہیں رہا۔ جن کی مائیں بچھڑ گئیں، ان کے لیے دنیا کے میلے اور رونقیں بے معنی ہو گئیں۔ اگر آج آپ کی ماں حیات ہے، تو آپ دنیا کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔ ان کے پاس بیٹھیں، ان کے ہاتھوں کو چومیں اور انہیں بتائیں کہ وہ آپ کے لیے کتنی اہم ہیں۔دعا ہے کہ اللہ پاک تمام ماؤں کا سایہ سلامت رکھے اور جن کی مائیں بچھڑ گئیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)