دعا

ڈاکٹر جاوید ملک
اس جہاں سے اس جہاں جانے میں دیر ہی کتنی لگی ؟دس منٹ میں پانی کا ریلا سب کچھ بہا لے گیا۔لودھراں سمیت دوسرے شہروں سے گلگت اور شمالی علاقہ جات میں جانے والے سیاحوں نے کیا کبھی سوچا تھا کہ وہ اب کبھی واپس گھر لوٹ کر نہیں آئیں گے ؟
موت کی وادی میں ان کا پڑاو دراصل سفر آخرت ہو گا۔خاکسار دو دن پہلے لاہور سے بہاولپور آتے ہوئے شاہدہ اسلام میڈیکل کالج لودھراں کے سامنے سے گزرا تو مجھے بابو سر ٹاپ پر حادثے کا شکار ہونے والے میڈیکل کالج کے اونر ڈاکٹر فہد اسلام کا میڈیا پر چلنے والا بیان یاد آگیا جس میں وہ کہہ رہے تھے۔اللہ کا شکر ہے کہ ان کے بھائی، زوجہ محترمہ جو حافظہ و ڈاکٹر تھی اور کم سن بچے کی ڈیڈ باڈیز مل گئی۔
ڈاکٹر فہد نے بالکل ٹھیک کہا کیونکہ ابھی تک بہت سی فیملیز لاپتہ ہیں۔میرے اسٹنٹ عمیر شیخ کے شہر منڈی فیض آباد سے سات لڑکے سیر و تفریح کے لئے گئے ، ان میں سے دو نوجوانوں کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں کہ ان کو زمین کھا گء یا آسمان ؟اسی طرح ایک ٹی وی اینکر اور ان کی فیملی بھی غائب ہے ، ریسیکو ٹیموں کو انتہائی کوشش کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ‘اتنے دن ہو گئے۔اب تو امیدیں بھی دم توڑتی جا رہی ہیں۔ہر طرف مایوسیوں کے ڈیرے ہیں۔یہ تو وہ لوگ ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں اور نجانے کتنے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو رپورٹ نہ ہو سکے۔اس سے پہلے سوات پانی کے ریلے میں بہہ جانے والی ویڈیو نے سب کے دل دہلا دیئے تھے کہ چلاس ، اور بابو سر ٹاپ کی ان اندونہاک خبروں نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔مجھے ان حادثات میں ہمیشہ کے لئے چلے جانے والے لوگوں کی قسمت پر رونا آیا کہ تقدیر نے شاید ان کی موت کا اختتام ایسے ہی لکھا تھا ؟اللہ معاف فرمائے۔اس طرح کی ناگہانی موت بارے مجھے اپنی والدہ ماجدہ اور بہت سے بزرگوں کی اکثر و بیشتر اللہ سے کی گئی دعائیں یاد آ جاتی ہیں ، جن کو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں‘ یا اللہ!آخری وقت کسی کا محتاج نہ کرنا ، چلتے پھرتے ، خاتمہ بالاایمان اور بنا تکلیف کے اپنے پاس بلانا۔آج ان حادثات کو دیکھ کر سمجھ آیا کہ بزرگ بار بار دعائیں کیوں مانگتے تھے۔گو کہ رب کی مشیت ایزدی کے سامنے کوء فرد واحد بھی انکار نہیں کر سکتا ہے مگر انسان ہونے کے ناطے ذہن میں سوال ابھرتے ہیں کہ جب میڈیا پر سیاحتی علاقوں میں سیلابی صورتحال کی خبریں چل رہی تھی تو پھر کیونکر پورے کے پورے خاندان سیر سپاٹے کے لئے نکل پڑے۔جب ہر طرف سیلاب ، پتھروں کی بارش اور بند راستے کھلوانے کی خبریں گردش کر رہی تھی تو لوکل انتظامیہ خواب خرگوش میں کہاں مدہوش تھی ؟آخر پہاڑی علاقوں میں ہوٹل مالکان اور دکانداروں کا سیر کے لئے آنے والوں سے ناروا سلوک ، منہ مانگے کرائے  ، مہنگی اشیائے خوردونوش فروخت کرنے کا صدیوں پرانا مسئلہ کب حل ہو گا ؟ان علاقوں میں سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لئے کوء سپیشل کوئک رسپانس فورس ، گائیڈز اور ھیلپ لائن نام کی چیز کیوں نہ ہے ؟اور کچھ من چلوں کی عجیب باتیں کہ جان سے ہاتھ دھونے والوں سے اللہ پاک ناراض تھا کیا جو پانی کی بے رحم موجیں منٹوں میں سب کچھ نگل گء ،کیا انہوں نے کسی کو رولایا کہ اب انکو ساری عمر اپنے پیاروں کی جدائی میں رونا پڑے گا ؟کیا ان فیملیز کو کسی کی آہ لگ گئی؟یا حادثات کا شکار ہونے والے لوگ اللہ کے ہاں بلند مقام رکھتے ہیں اوراللہ سوھنا صبر کے بدلے آخرت میں ان کو بڑا انعام دینا چاہتا ہے۔میڈیا کے بھیانک دور میں لوگ ان سوالات کے جوابات مانگتے دیکھاء دیتے ہیں۔خاکسار بندوں کے بندوں سے پوچھے گئے ، ان چھبتے سوالوں پر نالاں ہے کہ ہم سکینڈوں میں کسی بھی شخص کی جنت ، دوزخ کا فیصلہ کیسے صادر فرما دیتے ہیں ؟
راقم کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کے ہاں قبولیت اور مقبولیت کے پیمانے کیا ہیں ؟یہ رب سوھنا ہی جانتا ہے۔ہاں اللہ پاک کو اس کی مخلوق پر رحم کرنے والے لوگ بیحد پسند ہیں۔ہم اس بات سے بھی قطعی انکاری نہیں کہ صدقہ ، خیرات ، صلہ رحمی کا اپنا ہی ایک مقام ہے لیکن کسی کے دل سے نکلنے والی دعا انسان کی تقدیر بدلنے کے لئے کافی ہے۔بدقسمتی دعا دینے اور دعا لینے والے ، ہم میں رہے نہیں ہیں۔مال کی ہوس نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا