قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا سپریم کورٹ

جب ملزم کم عمر بچوں کا واحد زندہ والد یا والدہ ہو تو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے
 سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا جرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے  ریاست کسی بچے کی مکمل بے سہارگی کی وجہ نہ بنے
اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے  قتل کے مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے والے مجرم کی اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم محمد امین کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔عدالت نے مجرم محمد امین کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کردی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم کو 2 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔جب ملزم کم عمر بچوں کا واحد زندہ والد یا والدہ ہو تو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا جرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ریاست کسی بچے کی مکمل بے سہارگی کی وجہ نہ بنے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریر کردہ فیصلے  میں مزید کہا گیا کہ مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں اس کی بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا۔مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے ۔