مسرور احمد مسرور
بچت ایک اچھی فائدہ مند عادت ہے، غریب اور متوسط لوگوں کو بچت کی ترغیب دی جاتی ہے کہ آگے چل کر ان کی یہ بچت ان کے کسی ضروری کام آ سکے اور انھیں اپنی ضرورت پورا کرنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔
حکومت بھی عوام میں بچت کی عادت ڈالنے کو ضروری سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھاتی ہے کہ لوگ بچت کی جانب راغب ہو سکیں۔ بچت کے حوالے سے بینک اور پھر حکومت کا قومی بچت کا ادارہ اس سلسلے میں اپنے اپنے طور پر ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں اور بچت کے فروغ میں اپنا کردار احسن طور پر ادا کر رہے ہیں۔ البتہ بینکوں اور قومی بچت کے ادارے کا اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعلقات اور رویے میں ایک واضح فرق دکھائی دیتا ہے جس پر قومی بچت کے ادارے نیشنل سیونگز کے کھاتے داروں کے بہت جائز تحفظات ہیں جن کا تدارک کیا جانا بہت ضروری ہے جس سے قومی بچت کے سرکاری ادارے کی ساکھ میں زیادہ بہتری کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے تمام بینک اور نیشنل سیونگز کا ادارہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ان کے سرمائے پر جو منافع ادا کرتے ہیں اس میں فرق کی بنیاد پر لوگ اپنی رقوم بچت کی غرض سے محفوظ کرتے ہیں۔ بینکوں کے مقابلے میں نیشنل سیونگز اپنے کھاتے داروں کو کچھ زیادہ منافع ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ قومی بچت کے ادارے کو اپنا ڈپازٹس محفوظ رکھنے پر توجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بینکوں کے مقابلے میں قومی بچت میں رکھے گئے ڈپازٹس مجموعی طور پر بہت زیادہ ہوتے ہیں اور یہ ادارہ اس سرمائے سے بہت زیادہ منافع کما سکتا ہے اور کما ہی رہا ہوگا جو اپنے کسٹمرز کو زیادہ شرح منافع سے ان کی بچت پر انھیں منافع ادا کرتا ہے اور اس طرح لوگوں کا بھلا ہوتا ہے یہاں تک تو سب ٹھیک ہے البتہ قومی بچت کا ادارہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو وہ سہولتیں اور وہ ماحول فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر لوگ اس ادارے پر اعتماد کرتے ہوئے بچت کے حوالے سے نیشنل سیونگز کو ترجیح دیتے ہیں تو جواب میں انھیں بھی اپنے کھا تے داروںکو ضروری توجہ اور سہولتیں بہم پہنچانا حکومت کا اور اس قومی بچت کے ادارے کے بڑوں کی ذمے داری بنتی ہے انھیں بینکوں کے کھاتے داروں کو ملنے والی سہولتوں کو ہی سامنے رکھ لینا چاہیے۔ بینکوں میں سب سے بڑی بات تو وہ خوشگوار ماحول ہوتا ہے جہاں اکاؤنٹ ہولڈرز داخل ہونے کے بعد سکون سا محسوس کرتے ہیں۔ اکاؤنٹ ہولڈرز کو پوری توجہ دی جاتی ہے ان کی کوئی شکایت ہو تو اسے فوری طور پر دور کرنے کے لیے مستعدی دکھائی جاتی ہے سینئر سٹیزن کھاتے داروں کے ساتھ عزت اور احترام کا ساتھ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بینکوں میں اچھا صاف ستھرا ماحول اور اسٹاف کا اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے کارویہ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں قومی بچت کی برانچوں میں عام طور پر بالکل دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ وہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو بینکوں کے مقابلے میں زیادہ منافع ادا کرنے کو ہیسب کچھ سمجھتے ہیں اور اسے ا کا و نٹ ہو لڈرز پر بڑا احسان سمجھتے ہیں۔ برانچوں میں لوگوں کے لیے بڑی جگہ، پھر ان کے بیٹھنے کے لیے کوئی بہتر انتظام کے معاملات کو یہ ادارہ بالکل اہمیت نہیں دیتا برانچوں میں اسٹاف کا اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ بہت روکھا رویہ ا ختیار کیا جانا د یکھا گیا ہے برانچ منیجر تو سیٹھ بن کر کرسی پر برا جمان بیٹھے نظر آتے ہیں۔ برانچوں میں بڑی عمر کے ا کا و نٹ ہو لڈرز کی تعداد بھی بہت زیادہ دیکھی جاتی ہے لیکن ان بزرگ لوگوں کی طرفکوئی توجہ نہیں دی جاتی جو ایک افسوس ناک صورت حال ہے۔
بینکوں میں اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ بہ ذریعہ ای میل ارسال کر د یئیجا تے ہیں لیکن یہاں ایک نیا تماشا دیکھنے کو ملا کہ گلستان جوہر برانچ میں نیشنل سیونگز کی برانچ 2135 میں ایک خاتون نے برانچ منیجر منور حسن صاحب سے واٹس ایپ میسج کے ذریعے درخواست کی کہ انھیں ان کے اکاؤنٹ کی تفصیلات واٹس ایپ پر یا ان کے ای میل پر بھیج دی جائیں تو انھوں نے صاف منع کر دیا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے پاس سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ہے، انھیں بتایا گیا کہ رمضان کا مہینہہے اور موسم بھی گرم ہے آپ یہ مہربانی فرما دیں لیکن انھوں نے فون بند کر دیا۔ کیا قومی بچت کے ادارے میں اسٹاف کو ایسی ٹریننگ دے رکھی ہے؟
نیشنل سیونگز کی برانچوں میں کھاتے داروں کو بینکوں کی طرح اچھا ماحول اور تمام سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے دوسرے قومی بچت کا اسٹاف اور افسران جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے بوڑھے ریٹائرڈ پنشنرز اور دیگر آنے والے لوگوں کو اپنے رویے سے مطمئن نہیں کر پاتے۔ کراچی میں نیشنل سیونگز کے ریجنل ڈائریکٹر کو چاہیے کہ وہ کراچی کی تمام برانچوں کا پہلی فرصت میں وزٹ کریں اور برانچوں کے حالات دیکھیں۔ لوگوں سے معلومات حاصل کریں کہ انھیں کیا شکایات ہیں۔ وہ گلستان جوہر برانچ سے اپنی اس ذمے داری کا آغاز کریں اور ایک رپورٹ مرتب کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کریں کہ برانچوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا تجا و یز ہیں اور کیا ضروریات ہیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ نیشنل سیونگز کسٹمرز کے اکاؤنٹ ہولڈرز پر بڑا احسان ہوگا۔ دوسرے برانچوں کے اسٹاف کو بھی اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کریں۔ برانچوں میں شکایات باکس لگائے جائیں، برانچوں کا گھٹن زدہ ماحول بھی یکسر طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔