بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ سے متعلق انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ جاری

بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ سے متعلق انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ جاری

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کے خلاف اہم مقدمے میں پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانے کے معاملے پر فیصلہ سنا دیا ہے۔

 یہ فیصلہ جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت دیگر مقدمات میں شواہد کی تصدیق کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

 عدالتی فیصلہ:
انسداد دہشتگردی عدالت لاہور کے جج منظر علی گل نے کہا:"عدالت نے پولیس کو دو بار ملزم کا ٹیسٹ کرانے کی مہلت دی، مگر پولیس ناکام رہی۔"
عدالت کے مطابق:

ملزم (بانی پی ٹی آئی) نے دو بار انکار کیا۔
تیسری بار موقع دینا وقت کا ضیاع ہوگا۔
اس بنیاد پر عدالت نے پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
 کیس کا پس منظر:
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 12 مقدمات درج ہیں، جن میں جناح ہاؤس حملہ بھی شامل ہے۔مقدمات 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے جڑے ہوئے ہیں۔پولیس کی جانب سے عدالت میں درخواست دی گئی تھی کہ ملزم کا پولی گراف اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی جائے تاکہ اس کی موجودگی اور کردار کی تصدیق کی جا سکے۔
 عدالت کا مشاہدہ:
پولیس شواہد اکٹھے کرنے اور تحقیقات میں تاخیر کی مرتکب پائی گئی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اب مزید مہلت دینا تحقیقات کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔
 پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کیا ہوتے ہیں؟
پولی گرافک ٹیسٹ (Lie Detector): مشتبہ شخص کے دل کی دھڑکن، سانس لینے کی رفتار، پسینہ اور بلڈ پریشر وغیرہ کو جانچ کر سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ: سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر سے مشتبہ شخص کی شناخت اور موجودگی ثابت کی جاتی ہے۔
 آئندہ کا لائحہ عمل:
عدالت کے اس فیصلے کے بعد پولیس کو متبادل شواہد اور گواہوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ملزم کا تیسری بار ٹیسٹ سے انکار مؤثر قانونی دلیل بن چکا ہے۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف جاری کیسز میں پولیس کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب کیسز میں تکنیکی شواہد کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔