یمن کے الحدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی حملے، حوثیوں کو بندرگاہیں خالی کرنے کی وارننگ

یمن کے الحدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی حملے، حوثیوں کو بندرگاہیں خالی کرنے کی وارننگ

اسرائیلی بحریہ نے یمن کے بحیرہ احمر میں واقع الحدیدہ بندرگاہ پر حوثی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یؤآف گالانٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی اسرائیل پر حملے جاری رکھتے ہیں تو اسرائیل ان کے خلاف بحری اور فضائی ناکہ بندی کرے گا۔حوثی تحریک کے ترجمان ٹی وی چینل "المسیرہ" نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے الحدیدہ بندرگاہ کے ڈاکس پر دو فضائی حملے کیے، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ بندرگاہ ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ بندرگاہیں — راس عیسیٰ، الحدیدہ اور صلیف — خالی کر دی جائیں، ورنہ مزید حملے کیے جائیں گے۔ وزیر دفاع یؤآف گالانٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں اور بحری جہازوں کو حوثی خطرے سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی "ایمبری" نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد کسی تجارتی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم جہازوں کے عملے کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ڈیک پر نقل و حرکت محدود رکھیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد حوثیوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جس سے عالمی تجارتی راستے متاثر ہوئے۔اسرائیل کی جانب سے یمن، لبنان اور غزہ میں ایران کے حلیف گروہوں پر جوابی حملے جاری ہیں۔ حزب اللہ اور حماس کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، مگر حوثی تحریک اب بھی ایک منظم اور طاقتور عسکری قوت کے طور پر قائم ہے۔حوثی رہنما عبدالملک الحوثی کی قیادت میں یہ گروپ روایتی پہاڑی جنگجوؤں سے ایک جدید فورس میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کے پاس ہزاروں جنگجو، ڈرونز، اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ سعودی عرب اور مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ ان ہتھیاروں کی سپلائی ایران کر رہا ہے، تاہم ایران اس سے انکار کرتا ہے۔