ہم وہ نہیں جو بھارت ہمیں بنا کر پیش کرتا ہے‘پاکستان جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کیلئے پرعزم ہے، ہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن چاہتے ہیں
جنگ بندی عالمی برادری کے کردار کی بدولت ممکن ہوئی‘پاک بھارت بات چیت میں کردار عالمی برادری کی ذمہ داری ہے‘ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات ہونی چاہیے: میڈیا سے گفتگو
لندن (آئی ا ین پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے اگر عدالت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ضمانت پر رہا کردے تو میں اس کی حمایت کروں گا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ایک برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سوال پر کہ کیا عمران خان کو عدالت کی جانب سے ضمانت دی جا سکتی ہے کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عدالت بانی پی ٹی آئی کو ضمانت پر رہا کر دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ضمانت ان کا حق ہے، میں اس کی حمایت کروں گا، میں اور میری پارٹی اس کو چیلنج نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کیس کا ایک قانونی طریقہ کار ہے اور یہ بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔انہوںنے کہا ہم یہ یقین رکھتے ہیں ہم وہ نہیں ہیں جو بھارت ہمیں بنا کر پیش کرتا ہے، پاکستان جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ جبکہ ہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن چاہتے ہیں۔ جنگ بندی عالمی برادری کے کردار کی بدولت ممکن ہوئی۔ پاک بھارت بات چیت میں کردار عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ اور جنگ بندی کے وقت نیوٹرل مقام پر تمام حساس نکات پر بات چیت طے پائی تھی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی حکومت کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ اور دیگر اتحادی بھارت کو سمجھائیں کہ یہ رویہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ اور برطانوی حکومت بھی بھارتی حکومت سے دوستانہ طور پر بات کر سکتی ہے۔ 2 جوہری طاقتوں میں تنازع کے حل کے لیے نظام نہ ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کا تھریش ہولڈ کم ہو چکا ہے۔ اور بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد حملے کی صورت میں بغیر ثبوت کے جنگ کی کیفیت ہو سکتی ہے۔