سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر حافظ جاوید شوکت ملازمت سے برطرف ، شیخ جمیل احمد ، طاہر مقصود کی کی نچلے عہدے پر تنزلی،لاکھوں ریکوری کا حکم جاری کیا گیا :ڈاکٹر احسان بھٹہ
لاہور (قاسم علی)محکمہ اوقاف پنجاب میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس اور عید میلاد النبیؐ کے فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں پر سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے تین سابق افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سیکرٹری اوقاف نے پبلک ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ محکمانہ انکوائری میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جبکہ مزید متعلقہ افسران کے کردار کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر حافظ جاوید شوکت کو مالی بدعنوانی، قواعد کی خلاف ورزی اور اوپن چیکس کے ذریعے من پسند سپلائرز کو ادائیگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف 64 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی اور 28 لاکھ روپے کی ریکوری، جبکہ سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کو تین سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی اور 18 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔سیکرٹری اوقاف کے مطابق محکمانہ انکوائری میں عرس انتظامات کے دوران مروجہ مانیٹرنگ نظام کو بائی پاس کرنے، وینڈر سبسٹی ٹیوشن اور من پسند سپلائرز کو نوازنے کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں، جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کو ریفرنس بھجوانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مزید بتایا کہ سابق خطیب داتا دربار مفتی رمضان سیالوی کے خلاف 26 لاکھ روپے فنڈز کی مبینہ وصولی پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سابق سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور سابق ڈی جی مذہبی امور کے کردار کے تعین کے لیے بھی الگ تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویڑن کے مطابق محکمہ اوقاف کو بدعنوان اور نااہل عناصر سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔ میرٹ، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔محکمہ اوقاف پنجاب میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس اور عید میلاد النبیؐ کے فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں پر سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے تین سابق افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سیکرٹری اوقاف نے پبلک ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ محکمانہ انکوائری میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جبکہ مزید متعلقہ افسران کے کردار کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر حافظ جاوید شوکت کو مالی بدعنوانی، قواعد کی خلاف ورزی اور اوپن چیکس کے ذریعے من پسند سپلائرز کو ادائیگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف 64 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی اور 28 لاکھ روپے کی ریکوری، جبکہ سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کو تین سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی اور 18 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔سیکرٹری اوقاف کے مطابق محکمانہ انکوائری میں عرس انتظامات کے دوران مروجہ مانیٹرنگ نظام کو بائی پاس کرنے، وینڈر سبسٹی ٹیوشن اور من پسند سپلائرز کو نوازنے کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں، جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کو ریفرنس بھجوانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مزید بتایا کہ سابق خطیب داتا دربار مفتی رمضان سیالوی کے خلاف 26 لاکھ روپے فنڈز کی مبینہ وصولی پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سابق سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور سابق ڈی جی مذہبی امور کے کردار کے تعین کے لیے بھی الگ تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویڑن کے مطابق محکمہ اوقاف کو بدعنوان اور نااہل عناصر سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔ میرٹ، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔