بارش نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی‘ 12 زیر زمین واٹر ٹینک بھی پانی کا ذخیرہ نہ کرسکے
لاہور (شہزاد راجپوت)لاہور میں گزشتہ روز ہونے والی 7 گھنٹے کی مسلسل بارش نے حکومتِ پنجاب اور واسا کی نکاسی آب کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی پریس کانفرنس کے برعکس شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوبے رہے۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔اگرچہ وزیر ہاؤسنگ کا دعویٰ ہے لاہور میں 12 زیر زمین واٹر ٹینکس کو فعال کر دیا گیا ہے اور بڑی شاہراہوں کو کلیئر کر دیا گیا ہے مگر عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نشتر ٹائون،اقبال ٹاؤن،شالامار ٹائون،عزیز بھٹی ٹائون ،گلبر گ ٹائون،گنج بخش ٹائون اور جوبلی ٹائون جیسے علاقوں میں بارش کا پانی گھروں، دکانوں اور مساجد میں داخل ہوگیا۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت گٹروں کے ڈھکن اٹھا کر پانی نکالتے رہے ۔بلال یاسین نے دعویٰ کیا تھا کہ اگلے دو گھنٹوں میں پورا شہر کلیئر کر دیا جائے گا لیکن بارش کے کئی گھنٹے بعد بھی کئی نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ جس سے نہ صرف ٹریفک کا نظام متاثر ہوا بلکہ بجلی کی فراہمی بھی تعطل کا شکار ہو رہی ہے۔موجودہ صورت حال سے حکومتی دعووں کی نفی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔وزیر ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ "پچھلے سالوں کی نسبت نکاسی آب میں بہتری آئی ہے تاہم زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ بارش کے فوراً بعد واسا کی ٹیمیں اکثر علاقوں میں موجود ہی نہیں تھیں اور شہری انتظامیہ کی غفلت نے عوام کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔