افغان طالبان نے پاکستان میں مسلم گرلز ایجوکیشن کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا

افغان طالبان نے پاکستان میں مسلم گرلز ایجوکیشن کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا

اسلام آباد میں 11 اور 12 جنوری 2025 کو منعقد ہونے والی دو روزہ 'مسلم گرلز ایجوکیشن کانفرنس' میں افغان طالبان حکومت نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

 وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کے مطابق، افغانستان کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم افغان حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مسلم ممالک، بشمول پاکستان، کو لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی بھی شریک تھیں، جنہوں نے پاکستان آ کر خوشی کا اظہار کیا اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق چیلنجز کے حل پر بات چیت کی۔

کانفرنس میں رابطہ عالم اسلامی اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مندوبین سمیت 48 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ کانفرنس کا مقصد مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا اور درپیش رکاوٹوں کا حل تلاش کرنا ہے۔کانفرنس کے دوران مختلف موضوعات پر سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں تعلیمِ نسواں: رکاوٹیں اور حل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعلیم نسواں: مواقع اور امکانات، اور امن کے قیام میں خواتین کا کردار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کامیابی کی کہانیوں کے عنوان سے ایک ورکشاپ میں لڑکیوں کی تعلیم کے کامیاب تجربات پر روشنی ڈالی جائے گی۔