جامشورو کے علاقے کوٹری سائٹ ایریا میں پولیس نے کم عمر بچوں کی شادی کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے دولہا اور دلہن کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق لڑکی کی عمر 16 سال تھی اور لڑکے کی عمر 14 سال تھی۔ لڑکی کے ماموں نے اپنی بھانجی کا نکاح اپنے بیٹے سے کرایا تھا۔ یہ کارروائی لڑکی کی بہن کی شکایت پر کی گئی، جس نے پولیس کو اطلاع دی کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح کرایا گیا ہے اور اسے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔پولیس نے بتایا کہ لڑکی کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا، جبکہ اس کے والد دوسری شادی کے بعد کراچی میں رہتے ہیں۔ لڑکی اپنے ماموں کے ساتھ رہتی تھی، اور ماموں نے اس کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرایا۔ پولیس نے ماموں کو گرفتار کر لیا ہے اور لڑکی کو مقامی عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ کارروائی کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کے مطابق کی گئی ہے، کیونکہ پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی شادی غیر قانونی ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ لڑکی کی حالت اور شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔